ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملک کے متعلقہ سکیورٹی، دفاعی اور سائنسی اداروں کو ممکنہ جوہری تجربات کی تیاری سے متعلق تجاویز مرتب کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ ہدایت روس کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں سامنے آئی، جہاں اعلیٰ حکام نے امریکا کی جوہری پالیسی اور تجربات سے متعلق حالیہ اشاروں پر گفتگو کی۔

پیوٹن نے واضح کیا کہ روس نے جامع جوہری تجربات پر پابندی کے اصول کی پابندی کی ہے، لیکن اگر امریکا یا کوئی دوسری جوہری طاقت عملی جوہری تجربہ کرتی ہے تو ماسکو جواب دینے کے لیے تیار رہنا چاہتا ہے۔ انہوں نے وزارت خارجہ، وزارت دفاع، خصوصی خدمات اور متعلقہ سول اداروں کو ہدایت کی کہ وہ معلومات جمع کریں، صورتحال کا تجزیہ کریں اور ممکنہ تجربات کی تیاری شروع کرنے کے بارے میں مربوط تجاویز پیش کریں۔

روسی وزیر دفاع اور فوجی قیادت نے اجلاس میں کہا کہ امریکا کے اقدامات اور بیانات کے تناظر میں روس کے لیے تیاری ضروری ہو سکتی ہے۔ روس کے پاس نووایا زیملیا میں تاریخی جوہری تجرباتی مقام موجود ہے، جہاں سوویت دور میں متعدد تجربات کیے گئے تھے۔ روس نے 1990 کے بعد کوئی جوہری دھماکہ نہیں کیا، جبکہ امریکا نے اپنا آخری جوہری تجربہ 1992 میں کیا تھا۔ دونوں ممالک کے پاس دنیا کے سب سے بڑے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر ہیں۔

یہ پیش رفت فوری جوہری تجربے کے حتمی فیصلے کے مترادف نہیں ہے۔ پیوٹن کا حکم بنیادی طور پر متعلقہ اداروں سے تیاری اور تجاویز طلب کرنے سے متعلق ہے، اس لیے کسی مخصوص تاریخ، مقام یا دھماکے کی منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔ جوہری تجربات دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام، اسلحہ کنٹرول اور بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد پر گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔

روس اور امریکا کے درمیان اسلحہ کنٹرول کا ماحول پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ نئی جوہری دوڑ کے خدشات ایسے وقت بڑھے ہیں جب دونوں ممالک کے تعلقات یوکرین جنگ اور وسیع تر یورپی سلامتی کے معاملات پر کشیدہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی بڑی جوہری طاقت کی جانب سے حقیقی دھماکہ خیز تجربہ دوسری ریاستوں کو بھی اپنے پروگراموں کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کر سکتا ہے، تاہم فی الحال روسی اقدام کو تیاری کے مرحلے کے طور پر ہی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔