ریاض: سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ یمن کے ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مشرقی اور جنوبی علاقوں کی طرف داغے گئے تین بیلسٹک میزائل اور چار ڈرون فضا میں روک کر تباہ کر دیے گئے۔ سعودی سول ڈیفنس نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر مشرقی علاقے اور الخرج گورنریٹ میں ابتدائی انتباہ جاری کیے تھے اور بعد میں بتایا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق تازہ حملے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کا حصہ ہیں۔ حوثی فورسز نے گزشتہ ماہ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر بعض اہم علاقوں پر قبضہ کیا تھا اور باب المندب آبنائے کی سمت پیش قدمی کی تھی، جبکہ سعودی عرب نے اس کے جواب میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کی ہیں۔ باب المندب عالمی تجارت اور خلیجی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اس لیے وہاں عدم استحکام کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

سعودی اتحاد کے مطابق تازہ میزائل اور ڈرون حملوں کو دفاعی نظام نے ناکام بنایا۔ فوری طور پر بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ تاہم تنازع میں فریقین کے دعووں کی آزادانہ تصدیق جنگی حالات میں ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی، اس لیے فوجی کارروائیوں سے متعلق اعداد و تفصیلات کو متعلقہ فریق کے بیان سے منسوب کرنا ضروری ہے۔

حالیہ لڑائی نے اقوام متحدہ کی ثالثی سے 2022 میں قائم ہونے والی اس جنگ بندی کی عملی حیثیت کو مزید کمزور کر دیا ہے جس کے بعد کئی برس تک سعودی اتحاد اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار بڑے حملوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو سعودی حمایت حاصل ہے، جبکہ حوثی دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے حصوں پر قابض ہیں اور انہیں ایران کا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔

یہ کشیدگی وسیع تر مشرق وسطیٰ کے بحران سے بھی جڑ گئی ہے، جہاں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ نے علاقائی اتحادوں اور سلامتی کے خدشات کو نئی شدت دی ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی سمیت کئی ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود یمن کے محاذ پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملے اس خطرے کو برقرار رکھتے ہیں کہ لڑائی اہم بحری راستوں، توانائی تنصیبات اور شہری علاقوں تک مزید پھیل سکتی ہے۔