اسٹاک ہوم: یورپ میں سپر مارکیٹوں کے ریفریجریشن اور فریزر نظام کو نشانہ بنانے والے ایک نئے سائبر حملے نے متعدد مقامات پر خوراک محفوظ رکھنے کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق سویڈن میں ایک گروسری اسٹور نے فریزرز کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھنے کے بعد ہیکرز کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا، جبکہ مسئلے کی نوعیت نے دوسرے یورپی مقامات پر بھی منسلک کولنگ نظام کی سکیورٹی سے متعلق تشویش بڑھا دی ہے۔
جدید سپر مارکیٹوں میں ریفریجریشن یونٹس اکثر مرکزی ڈیجیٹل کنٹرول سسٹمز اور ریموٹ مانیٹرنگ سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ نظام توانائی کے استعمال، درجہ حرارت اور خرابیوں کی نگرانی میں سہولت دیتے ہیں، لیکن انٹرنیٹ یا نیٹ ورک سے منسلک ہونے کی وجہ سے کمزور سکیورٹی کی صورت میں سائبر حملہ آوروں کے لیے ممکنہ ہدف بھی بن سکتے ہیں۔
تازہ واقعے میں اصل تشویش صرف کمپیوٹر ڈیٹا نہیں بلکہ جسمانی آپریشنز پر سائبر مداخلت کا اثر ہے۔ اگر کولنگ کا درجہ حرارت محفوظ حد سے باہر چلا جائے تو خوراک ضائع ہونے، کاروباری نقصان اور صحت عامہ سے متعلق خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے صنعتی کنٹرول سسٹمز کی حفاظت روایتی آئی ٹی سکیورٹی سے بڑھ کر عملی بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں متاثرہ سویڈش اسٹور کے تجربے کو نمایاں کیا گیا، تاہم ہر متاثرہ نظام یا مقام کے بارے میں حملہ آور کی شناخت اور تکنیکی طریقہ یکساں طور پر ثابت نہیں ہوا۔ اس لیے کسی مخصوص گروہ کو ذمہ دار ٹھہرانا یا تمام خرابیوں کو ایک ہی حملے سے جوڑنا دستیاب تصدیق سے آگے ہوگا۔
یورپی کاروبار حالیہ برسوں میں رینسم ویئر، سپلائی چین حملوں اور انٹرنیٹ سے منسلک صنعتی آلات کی کمزوریوں کے باعث سائبر سکیورٹی پر اخراجات بڑھا رہے ہیں۔ ریفریجریشن جیسے نظام کی خرابی یہ دکھاتی ہے کہ سائبر خطرات اب صرف مالیاتی ریکارڈ یا ویب سائٹس تک محدود نہیں رہے بلکہ حقیقی دنیا کے آلات اور خدمات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
واقعے کے بعد خوردہ فروشوں اور ٹیکنالوجی فراہم کنندگان کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ ریموٹ رسائی، پاس ورڈز، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور نیٹ ورک تقسیم جیسے حفاظتی اقدامات کس حد تک مضبوط ہیں۔ حملے کی مکمل وسعت اور ذمہ دار فریق کے بارے میں مزید نتائج متعلقہ کمپنیوں اور تفتیشی اداروں کی تکنیکی جانچ کے بعد ہی واضح ہوں گے۔
