سیول: جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے 2027 کے لیے ریکارڈ حجم کے بجٹ کے تحت مصنوعی ذہانت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق صدر نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران اے آئی کو ملک کی مستقبل کی صنعتی اور معاشی مسابقت کے لیے مرکزی شعبہ قرار دیا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت، جدید سیمی کنڈکٹرز، ڈیٹا مراکز اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر میں تیز سرمایہ کاری کے باعث جنوبی کوریا کو بھی اپنی تکنیکی صلاحیت بڑھانا ہوگی۔ بجٹ میں مجوزہ اخراجات کا مقصد تحقیق، بنیادی ڈھانچے اور کاروباری استعمال کے لیے اے آئی صلاحیتوں کو تقویت دینا ہے۔

صدر لی نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت نئی ٹیکنالوجی پر محتاط مگر محدود اخراجات کے بجائے زیادہ جرات مندانہ سرمایہ کاری چاہتی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت سرکاری وسائل کو ایسے منصوبوں کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو طویل مدت میں پیداواری صلاحیت اور برآمدی مسابقت بڑھا سکیں۔

جنوبی کوریا پہلے ہی میموری چپس اور جدید الیکٹرانکس کی عالمی سپلائی چین میں اہم مقام رکھتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی عالمی توسیع نے اعلیٰ کارکردگی والی میموری اور دیگر سیمی کنڈکٹر مصنوعات کی طلب میں اضافہ کیا ہے، جس سے کوریائی کمپنیوں کو نئے مواقع ملے ہیں۔ حکومت اس صنعتی بنیاد کو وسیع اے آئی معیشت سے جوڑنا چاہتی ہے۔

تاہم بجٹ تجاویز کو پارلیمانی منظوری کے عمل سے گزرنا ہوگا اور مختلف اخراجاتی ترجیحات پر سیاسی بحث متوقع ہے۔ اس لیے اعلان کردہ منصوبوں کے تمام اعداد و عملی مراحل کو حتمی منظور شدہ بجٹ سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ قومی اسمبلی میں بحث کے دوران مختص رقوم اور پروگراموں میں تبدیلی ممکن ہے۔

اگر بجٹ کی بنیادی سمت برقرار رہتی ہے تو جنوبی کوریا ایشیا میں سرکاری سطح پر اے آئی سرمایہ کاری بڑھانے والے بڑے ممالک میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ اس پالیسی کے حقیقی اثرات کا انحصار سرمایہ کاری کے نفاذ، نجی شعبے کی شمولیت اور عالمی ٹیکنالوجی منڈی کی رفتار پر ہوگا۔