ہیوسٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کے مریخ نما طویل دورانیے کے تجرباتی مشن میں شریک چار افراد 378 دن کی تنہائی مکمل کرنے کے بعد جانسن اسپیس سینٹر کے مصنوعی رہائشی مرکز سے باہر آگئے ہیں۔ یہ ناسا کے Crew Health and Performance Exploration Analog، یعنی CHAPEA، پروگرام کا دوسرا طویل مشن تھا۔

ایکسپریس ٹریبیون میں شائع رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چار رکنی ٹیم نے 2025 میں مصنوعی مریخی رہائش گاہ میں داخل ہو کر ایک سال سے زیادہ عرصہ محدود وسائل اور زمین سے دور خلائی سفر جیسی شرائط میں گزارا۔ اس دوران عملے نے فصلیں اگانے، رہائش گاہ کی دیکھ بھال، منصوبہ بند سائنسی سرگرمیوں اور تاخیر سے ہونے والی مواصلات جیسے تجربات میں حصہ لیا۔

ناسا اس پروگرام کے ذریعے یہ جاننا چاہتا ہے کہ طویل خلائی مشن کے دوران انسانی جسم، ذہنی صحت، ٹیم ورک، روزمرہ معمولات اور محدود وسائل کے استعمال پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔ مریخ تک حقیقی انسانی سفر میں مواصلاتی پیغامات فوری نہیں پہنچ سکیں گے، اس لیے تجربے میں زمین اور عملے کے درمیان مصنوعی تاخیر بھی شامل کی گئی تاکہ ارکان زیادہ خودمختار فیصلے کرنے کی مشق کر سکیں۔

مشن کی طبی افسر ایلن ایلس اور ان کے ساتھیوں نے باہر آنے کے بعد تجربے کو مشکل مگر اہم قرار دیا۔ عملے کے رکن روس ایلڈر نے کہا کہ مریخ کے سفر میں خطرات بہت زیادہ ہوں گے، تاہم مناسب تیاری، تحقیق، قیادت اور مسلسل محنت سے انسانی مشن ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بیانات تجرباتی مشن کے شرکا کی رائے ہیں، ناسا کی جانب سے کسی مریخی انسانی مشن کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں۔

جانسن اسپیس سینٹر کی ڈائریکٹر وینیسا وائش کے مطابق عملے نے محدود وسائل کے ساتھ رہائش گاہ برقرار رکھی اور مصنوعی مریخی آپریشنز انجام دیے۔ اب چاروں ارکان تقریباً دو ہفتوں کے بعد از مشن طبی اور سائنسی جائزوں اور تفصیلی بریفنگ میں حصہ لیں گے، جن سے ناسا کو جمع شدہ ڈیٹا سمجھنے میں مدد ملے گی۔

CHAPEA کا پہلا 378 روزہ تجربہ 2023 سے 2024 تک ہوا تھا۔ دوسرے مشن کے نتائج مستقبل کے چاند اور مریخ سے متعلق انسانی خلائی منصوبوں کی تیاری میں استعمال کیے جائیں گے۔ اس تجربے نے حقیقی مریخی ماحول کو مکمل طور پر نقل نہیں کیا، لیکن محدود جگہ، وسائل، کام کے دباؤ اور مواصلاتی تاخیر جیسے اہم انسانی عوامل کا منظم مطالعہ فراہم کیا ہے۔