ہیوسٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کے مریخ پر انسانی مشن کی تیاری سے متعلق طویل دورانیے کے تجربے کے چار رضاکار 378 دن کی تنہائی مکمل کرنے کے بعد جانسن اسپیس سینٹر میں قائم مصنوعی مریخی رہائش گاہ سے باہر آگئے ہیں۔ رائٹرز اور ناسا کے مطابق Crew Health and Performance Exploration Analog، یا CHAPEA، کے دوسرے مشن نے مستقبل میں مریخ اور دیگر طویل خلائی مہمات کے دوران انسانی صحت اور کارکردگی سے متعلق خطرات سمجھنے کے لیے ایک سال سے زیادہ عرصے تک محدود ماحول میں زندگی اور کام کی صورت حال کا جائزہ لیا۔

مشن کے ارکان راس ایلڈر، میتھیو مونٹگمری، ایلن ایلس اور جیمز اسپائسر نے ہیوسٹن میں تقریباً 1,700 مربع فٹ پر مشتمل تھری ڈی پرنٹ شدہ رہائش گاہ میں قیام کیا۔ یہ ماحول اس انداز میں تیار کیا گیا تھا کہ عملے کو مریخ جیسے محدود وسائل، الگ تھلگ رہائش اور زمین سے رابطے میں تاخیر کے حالات کا سامنا ہو۔ ناسا نے اس تجربے کو حقیقی مریخی سفر قرار نہیں دیا بلکہ زمینی سطح پر ایک اینالاگ مشن کے طور پر چلایا۔

عملے نے قیام کے دوران فصلیں اگانے، آلات اور روبوٹک نظام استعمال کرنے، مصنوعی سطح پر سرگرمیاں انجام دینے، رہائش گاہ کی دیکھ بھال اور مشن کنٹرول کے ساتھ تاخیر سے رابطے جیسے کام کیے۔ مقصد یہ جانچنا تھا کہ طویل تنہائی، محدود خوراک اور دیگر وسائل، مسلسل ذمہ داریوں اور بیرونی مدد تک فوری رسائی نہ ہونے کی صورت میں انسانوں کی جسمانی اور نفسیاتی کارکردگی کس طرح متاثر ہوسکتی ہے۔

ناسا کے مطابق جمع کیے گئے صحت اور کارکردگی کے اعداد و شمار مستقبل کی انسانی خلائی پروازوں میں خطرات کم کرنے کے طریقے تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ادارہ چاند سے متعلق آرٹیمس پروگرام اور طویل مدت میں مریخ تک انسانی رسائی کے لیے ایسی تحقیق کو اہم سمجھتا ہے، کیونکہ زمین سے بہت دور کسی مشن میں فوری طبی، تکنیکی یا رسدی مدد ممکن نہیں ہوگی۔

CHAPEA تجربات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عملے کے لیے ہر وقت وافر وسائل مہیا نہیں کیے جاتے۔ اس سے محققین یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ محدود رسد کے حالات میں کام کی ترجیحات، خوراک، آلات کے استعمال اور ٹیم کے اندر فیصلہ سازی پر کیا اثر پڑتا ہے۔ رابطے میں جان بوجھ کر تاخیر پیدا کرنا بھی مریخ اور زمین کے درمیان حقیقی فاصلے کی ایک اہم عملی مشکل کی نقل ہے۔

378 دن مکمل ہونے کے بعد عملے کا باہر آنا تجربے کے رہائشی مرحلے کا اختتام ہے، لیکن تحقیق اسی وقت ختم نہیں ہوتی۔ ناسا کو اب مشن کے دوران جمع ہونے والے طبی، رویہ جاتی اور کارکردگی کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ ان نتائج سے یہ طے کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مستقبل کے خلانوردوں کے لیے خوراک، رہائش، کام کے شیڈول، ذہنی صحت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے نظام کس طرح بہتر بنائے جائیں۔

یہ تجربہ مریخ پر انسانی لینڈنگ کی تاریخ یا حتمی منصوبے کا اعلان نہیں ہے، بلکہ اس طویل تحقیقی عمل کا حصہ ہے جس کے ذریعے ناسا زمین سے دور انسانی موجودگی کے عملی تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔