برسلز: یورپ کے کم از کم پانچ ملکوں میں سپرمارکیٹس کے ریفریجریشن سسٹمز پیر کو سائبر مداخلت یا مشتبہ نیٹ ورک حملوں سے متاثر ہوئے، جس سے بعض دکانوں میں فریج اور فریزر کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ گیا۔ اے ایف پی کے مطابق بیلجیم، ایسٹونیا، فن لینڈ، لکسمبرگ اور سویڈن میں واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ چند ہفتے قبل فرانس میں بھی اسی نوعیت کا حملہ سامنے آیا تھا۔

بیلجیم میں کیرفور نے اپنی تقریباً 700 دکانوں میں سے لگ بھگ 15 میں خلل کی تصدیق کی اور کمپنی کے ترجمان نے اسے سائبر حملہ قرار دیا۔ آئی کیا بیلجیم نے بھی مونس میں اپنے اسٹور کے فریزر متاثر ہونے کی اطلاع دی۔ دیگر بیلجین چینز میں بھی تکنیکی مسائل سامنے آئے، جبکہ لکسمبرگ میں چند اسٹور متاثر ہوئے۔

سویڈن کی کوپ چین نے کہا کہ اس کی تقریباً 800 دکانوں میں سے چھ سائبر واقعے سے متاثر ہوئیں۔ کمپنی کے مطابق مسئلہ بعد میں حل کر لیا گیا اور فریج و فریزر معمول کے مطابق کام کرنے لگے۔ ترجمان نے کہا کہ متاثرہ اسٹورز پرانے 4G موبائل نیٹ ورک سے منسلک تھے، تاہم اس تکنیکی تعلق سے حملہ آور کی شناخت ثابت نہیں ہوتی۔

سویڈن کی ایک دوسری چین آئی سی اے نے محدود تعداد میں دکانوں میں ریفریجریشن مسائل کی تصدیق کی لیکن اس نے سائبر حملے کو حتمی وجہ قرار نہیں دیا۔ متاثرہ نظاموں میں ڈنمارک کی کمپنی ڈینفوس کے بیرونی کنٹرول سسٹمز کا ذکر سامنے آیا۔ ڈینفوس نے فرانس کے سابق واقعے کے بعد کہا تھا کہ متاثرہ آلات میں زیادہ تر پرانے ماڈلز تھے جنہیں اب سافٹ ویئر یا سکیورٹی اپ ڈیٹس نہیں ملتیں۔

فن لینڈ میں بھی چند چھوٹے گروسری اسٹورز میں غیر معمولی درجہ حرارت ریکارڈ ہوا اور حکام نے نیٹ ورک مداخلت کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ ایسٹونیا میں کم از کم ایک سپرمارکیٹ کے ریفریجریشن یونٹس کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھائے جانے کی اطلاع ملی۔

کسی فرد یا گروہ نے تازہ حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس لیے مختلف ملکوں کے تمام واقعات کو ایک ہی حملہ آور سے منسوب کرنا فی الحال درست نہیں ہوگا۔ تاہم واقعات نے انٹرنیٹ سے منسلک صنعتی کنٹرول سسٹمز اور پرانے آلات کی سکیورٹی پر نئے سوالات اٹھائے ہیں۔

خوراک کے ذخیرے اور کولڈ چین کے نظام میں اس نوعیت کی مداخلت کا اثر محض آئی ٹی خرابی تک محدود نہیں رہتا؛ درجہ حرارت بڑھنے سے خوراک ضائع ہونے، کاروباری نقصان اور فوڈ سکیورٹی کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یورپی حکام اور متاثرہ کمپنیوں کی تحقیقات سے حملوں کے طریقہ کار اور ذمہ دار عناصر کے بارے میں مزید تفصیل سامنے آنے کی توقع ہے۔