ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ایڈنوک نے اوپن اے آئی کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق نئی شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ ڈان میں شائع ہونے والی اے ایف پی رپورٹ کے مطابق ایڈنوک کا کہنا ہے کہ وہ OpenAI Frontier نامی جدید مصنوعی ذہانت پلیٹ فارم استعمال کرنے والی دنیا کی پہلی توانائی کمپنی ہوگی۔ معاہدے کا اعلان ابوظہبی میں تیل و گیس کی بڑی صنعتی کانفرنس ADIPEC کے موقع پر کیا گیا، جہاں اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین بھی موجود تھے۔

ایڈنوک کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو کمپنی کے کئی دہائیوں پر محیط ارضیاتی اور آپریشنل ڈیٹا کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ اس ڈیٹا میں ہزاروں کنوؤں، متعدد زیر زمین ذخائر، سینکڑوں سطحی تنصیبات، سرمایہ جاتی لاگت، آپریشنل اخراجات اور تجارتی عوامل سے متعلق معلومات شامل ہوں گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس امتزاج سے تیل و گیس فیلڈز کے ترقیاتی منصوبے تیار کرنے اور انہیں بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

بیان کے مطابق باہم منسلک اے آئی ایجنٹس خام تیل کی رسد، طلب، قیمتوں اور منافع کے مارجن سے متعلق پیش گوئیاں بھی تیار کریں گے اور مختلف فیصلوں کے ممکنہ تجارتی و آپریشنل اثرات کا جائزہ لینے میں استعمال ہوں گے۔ ایڈنوک نے اس ٹیکنالوجی کو زیر زمین ذخائر کی قدر کے بہتر اندازے اور پورے فیلڈ کی منصوبہ بندی کو ایک مربوط عمل میں تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اس شراکت داری میں متحدہ عرب امارات کی مصنوعی ذہانت کمپنی G42 بھی شامل ہوگی۔ G42 کو ابوظہبی کے سرکاری سرمایہ کاری نظام کی حمایت حاصل ہے اور کمپنی خطے میں کمپیوٹنگ، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے منصوبوں پر کام کرتی ہے۔ متحدہ عرب امارات گزشتہ کئی برسوں سے مصنوعی ذہانت کو اپنی معاشی تنوع کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنا رہا ہے اور جدید کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور اے آئی ماڈلز تک رسائی بڑھانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داریاں قائم کر رہا ہے۔

ایڈنوک کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو سلطان الجابر نے کہا کہ توانائی اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تعلق اب دو طرفہ شکل اختیار کر رہا ہے، یعنی توانائی کا شعبہ اے آئی کے لیے بجلی اور انفراسٹرکچر فراہم کرنے کے ساتھ خود بھی اے آئی سے آپریشنل فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سیم آلٹمین نے متحدہ عرب امارات کی اے آئی اپنانے کی پالیسی کو سراہا۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے کی مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ اس لیے شراکت داری کے مالی حجم، سرمایہ کاری کی تقسیم یا متوقع بچت سے متعلق کوئی حتمی عدد سامنے نہیں آیا۔ اعلان کا بنیادی محور ٹیکنالوجی کی تعیناتی اور ایڈنوک کے موجودہ ڈیٹا و فیصلہ سازی کے نظام میں جدید اے آئی ماڈلز کا انضمام ہے۔

یہ پیش رفت توانائی کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں کمپنیاں ذخائر کے تجزیے، دیکھ بھال، پیداوار کی منصوبہ بندی، قیمتوں کے تخمینے اور سرمایہ کاری کے فیصلوں میں ڈیٹا پر مبنی ماڈلز کا استعمال بڑھا رہی ہیں۔ تاہم عملی نتائج کا انحصار ماڈلز کی درستگی، ڈیٹا کے معیار، انسانی نگرانی اور ان نظاموں کو حقیقی آپریشنز میں مؤثر انداز سے شامل کرنے پر ہوگا۔