کیف/ماسکو: یوکرین اور روس میں شہریوں کو ہنگامی صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایپس سائبر حملے کا نشانہ بنیں، جس کے نتیجے میں صارفین کو جعلی فضائی حملوں اور جوہری خطرے سے متعلق انتباہات موصول ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق دونوں ملکوں میں متعلقہ حکام نے ان پیغامات کو غلط قرار دیا اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ایمرجنسی الرٹ نظام جنگ کے دوران شہریوں کے لیے انتہائی حساس بنیادی ڈھانچے کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے فضائی حملوں، میزائل خطرات اور دیگر ہنگامی حالات کے بارے میں فوری اطلاع دی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے ایسے نظام میں جعلی پیغام داخل ہونا صرف تکنیکی خرابی نہیں بلکہ عوامی سلامتی اور معلوماتی اعتماد کا مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہیکنگ کے بعد ایسے پیغامات پھیلائے گئے جن میں فوری خطرے کا تاثر دیا گیا۔ حکام نے شہریوں سے کہا کہ وہ سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں اور غیر مصدقہ الرٹس پر انحصار نہ کریں۔ حملے کے ذمہ داروں کے بارے میں فوری طور پر قابل تصدیق نتیجہ سامنے نہیں آیا، اس لیے کسی ریاست، گروہ یا فرد کو ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران سائبر کارروائیاں پہلے بھی مواصلاتی نیٹ ورکس، سرکاری ویب سائٹس، توانائی نظام اور معلوماتی پلیٹ فارمز کو متاثر کرتی رہی ہیں۔ تازہ واقعہ اس خطرے کو نمایاں کرتا ہے کہ روزمرہ شہری تحفظ کے لیے بنائی گئی ڈیجیٹل سروسز بھی جنگی یا تخریبی سائبر سرگرمیوں کا ہدف بن سکتی ہیں۔

جعلی جوہری الرٹ خاص طور پر حساس نوعیت کا ہے کیونکہ اس طرح کا پیغام بڑے پیمانے پر خوف، نقل و حرکت اور سرکاری ہدایات کے بارے میں الجھن پیدا کر سکتا ہے۔ ہنگامی نظام کی افادیت کا دارومدار صارفین کے اعتماد پر ہوتا ہے، اس لیے حکام کے لیے تکنیکی خامی یا دراندازی دور کرنے کے ساتھ مستند پیغامات کی فوری شناخت بھی ضروری ہے۔

اس مرحلے پر واقعے کی تصدیق سائبر حملے اور جعلی انتباہات تک محدود ہے۔ حملہ آوروں کی شناخت، استعمال کیے گئے طریقہ کار اور دونوں ملکوں کے نظام پر اثر کی مکمل نوعیت تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوگی۔ کسی بھی ذمہ داری کے دعوے کو باضابطہ تکنیکی شواہد سامنے آنے تک الزام یا ابتدائی اندازے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔