ہانگ کانگ: عالمی بینک ایچ ایس بی سی نے ہانگ کانگ میں مصنوعی ذہانت کا نیا انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو سنگاپور میں شروع کیے گئے اسی نوعیت کے مرکز کے بعد بینک کا دوسرا علاقائی اے آئی ادارہ ہوگا۔ رائٹرز کے مطابق اعلان ہانگ کانگ فن ٹیک ویک کے دوران کیا گیا، جہاں مالیاتی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال اور ایشیا میں تکنیکی سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز رہی۔
ایچ ایس بی سی کے گروپ چیف ایگزیکٹو جارج الہیڈری نے تقریب میں بینک کی اے آئی حکمت عملی پر بات کی۔ نیا ادارہ مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیق، افرادی قوت کی تربیت اور بینکاری کے عملی شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو مربوط کرنے کے لیے قائم کیا جا رہا ہے۔ ہانگ کانگ ایچ ایس بی سی کی اہم ترین ایشیائی منڈیوں میں شامل ہے، اس لیے وہاں الگ ادارہ قائم کرنا بینک کی علاقائی ٹیکنالوجی حکمت عملی میں اہم پیش رفت ہے۔
بینکاری کی صنعت میں اے آئی کا استعمال صارفین کی خدمت، فراڈ کی شناخت، خطرات کے تجزیے، دستاویزات کی پروسیسنگ اور اندرونی آپریشنز سمیت کئی شعبوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بڑے مالیاتی ادارے ان نظاموں سے کارکردگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ ڈیٹا تحفظ، ماڈل رسک اور ضابطہ جاتی تقاضوں کو بھی سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایچ ایس بی سی کا ہانگ کانگ انسٹی ٹیوٹ ایسے وقت قائم کیا جا رہا ہے جب شہر خود کو ایشیا کے بڑے مالیاتی اور فن ٹیک مراکز میں برقرار رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مالیاتی خدمات پر سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے۔ سنگاپور بھی اسی شعبے میں علاقائی مسابقت کا بڑا مرکز ہے، اور ایچ ایس بی سی کی دونوں مقامات پر موجودگی اس دوہری علاقائی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔
اعلان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ بینک فوری طور پر اپنی تمام خدمات کو اے آئی پر منتقل کر رہا ہے۔ مالیاتی اداروں میں نئی ٹیکنالوجی کا نفاذ عموماً مرحلہ وار ہوتا ہے اور اسے مقامی ضابطوں، ڈیٹا گورننس، سائبر سکیورٹی اور صارفین کے تحفظ کے تقاضوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
نئے انسٹی ٹیوٹ کی کامیابی کا عملی پیمانہ یہ ہوگا کہ وہ تحقیق اور تربیت کو حقیقی بینکاری مصنوعات اور عمل میں کس حد تک تبدیل کرتا ہے۔ فی الحال ایچ ایس بی سی کا اعلان ایشیا میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے کی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا واضح اشارہ ہے۔
