اسلام آباد: سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ حکومت ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کو برآمد کنندگان کی مشاورت سے مزید بہتر بنانے پر کام کرے گی تاکہ برآمدی صنعتوں کو خام مال اور پیداواری ان پٹس تک زیادہ مؤثر رسائی مل سکے اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت برقرار رہے۔
وقفۂ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ایوان کو بتایا کہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے تحت برآمد کنندگان کو خام مال اور دیگر ان پٹس زیرو ریٹڈ بنیاد پر درآمد کرنے کی سہولت حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام برآمدی مصنوعات کی لاگت اور عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے اہم ہے، اور حکومت اس کے طریقۂ کار کو متعلقہ کاروباری حلقوں سے مشاورت کے بعد مزید بہتر کرنا چاہتی ہے۔
وزیر مملکت نے کسٹمز اصلاحات سے متعلق بتایا کہ بندرگاہوں پر کاروبار میں آسانی اور بدعنوانی کم کرنے کے لیے فیس لیس کسٹمز نظام متعارف کرایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی نوعیت کا نظام ہوائی اڈوں پر بھی متعارف کرانے کا منصوبہ موجود ہے۔ تاہم ایوان میں اس توسیع کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
ٹیکس پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ برآمد کنندگان اور ایسے کاروبار جن کی سالانہ آمدن پچاس کروڑ روپے سے زیادہ نہیں، ان کے لیے سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پچاس کروڑ روپے سے زیادہ آمدن والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح دس فیصد سے کم کرکے آٹھ فیصد کی گئی ہے اور مالی گنجائش دستیاب ہونے پر اسے مزید کم کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ بیان مستقبل کی پالیسی سمت کی نشاندہی کرتا ہے، مزید کمی کا حتمی فیصلہ نہیں۔
انہوں نے تعمیراتی شعبے کے لیے جامع پالیسی پر جاری کام کا بھی ذکر کیا اور وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی سے ایوان کو آگاہ کیا۔ اجلاس کے آغاز میں کرک میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ سینیٹ کا آئندہ اجلاس پیر کو شام چار بجے مقرر کیا گیا ہے۔

