لاہور/فیصل آباد: فیصل آباد اور ملحقہ علاقوں میں چھوٹے پاور لوم یونٹس درآمدی مسابقت، یوٹیلیٹی بلوں اور ٹیکسوں کے بڑھتے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ میں صنعت اور مزدور نمائندوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مقامی پاور لوم شعبے کے تقریباً 40 فیصد یونٹس بند ہو چکے ہیں، جبکہ ایک مزدور رہنما نے ایک لاکھ سے زیادہ کارکنوں کے بے روزگار ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ اعداد صنعت سے وابستہ نمائندوں کے بیانات پر مبنی ہیں اور انہیں سرکاری روزگار شماری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
ٹیکسٹائل، پاور لوم اینڈ گارمنٹ ورکرز یونین فیصل آباد کے صدر اسلم معراج کے مطابق چینی یارن، گرے کلاتھ اور تیار کپڑے کی نسبتاً کم قیمت درآمدات نے مقامی مصنوعات کے لیے مقابلہ مشکل بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی و دیگر یوٹیلیٹی اخراجات اور ٹیکس بھی چھوٹے یونٹس کی لاگت بڑھا رہے ہیں۔ فیصل آباد سائزنگ ملز ایسوسی ایشن کے صدر شکیل انصاری نے بھی کہا کہ پاور لوم اور سائزنگ ملز شدید دباؤ میں ہیں اور سرحدی و سڑک رابطوں میں رکاوٹوں نے افغانستان، وسطی ایشیا اور خیبرپختونخوا کی منڈیوں تک کاروباری نقل و حرکت کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فیصل آباد میں پاور لومز کی بڑی تعداد چھوٹے ورکشاپس سے لے کر بڑی فیکٹریوں تک پھیلی ہوئی ہے اور یہ شعبہ گرے کپڑا تیار کرنے کی مقامی سپلائی چین کا اہم حصہ ہے۔ صنعت کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ چین سے آنے والا یارن اور کپڑا مقامی پیداوار کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ ایک مقامی یونٹ مالک نے بھی بلند بلوں، ٹیکسوں اور دیگر کاروباری اخراجات کو اپنی مشکلات میں شامل قرار دیا۔
کونسل آف لوم اونرز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر تجارت کو خط لکھ کر درآمدی ویلیوایشن کی نگرانی مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے بعض درآمدات میں انڈر انوائسنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے تجویز دی کہ پاکستانی گڈز ڈیکلریشن کو چینی ایکسپورٹ کسٹمز ڈیکلریشن سے کھیپ کی سطح پر ملایا جائے۔ یہ الزام صنعت تنظیم کی جانب سے سامنے آیا ہے؛ رپورٹ میں کسی مخصوص درآمد کنندہ کے خلاف حتمی سرکاری خلاف ورزی کا فیصلہ بیان نہیں کیا گیا۔ مجوزہ طریقہ کار کا مقصد اعلان کردہ قیمت، ایچ ایس کوڈ، مقدار اور سامان کی تفصیل میں مادی فرق کی صورت میں مزید جانچ ممکن بنانا ہے۔

