اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ان افراد کے لیے نئے قواعد تجویز کیے ہیں جو مقررہ یا توسیع شدہ آخری تاریخ کے بعد انکم ٹیکس ریٹرن جمع کراتے ہیں۔ مجوزہ طریقہ کار کے تحت ایسے افراد مقررہ سرچارج ادا کیے بغیر ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ، یعنی ATL، میں شامل ہو سکیں گے، تاہم انہیں چھ ماہ تک کسی جائیداد کی ملکیت یا فائدہ مند مفاد حاصل نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی کرانا ہوگی۔
ڈان کے مطابق یہ مسودہ ترامیم انکم ٹیکس رولز 2002 میں SRO 1690 کے ذریعے جاری کی گئی ہیں اور FBR نے حتمی شکل دینے سے پہلے متعلقہ فریقوں سے ایک ہفتے کے اندر آرا طلب کی ہیں۔ اس لیے یہ انتظام ابھی مجوزہ قواعد کی سطح پر ہے اور اسے حتمی نافذ شدہ رعایت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مجوزہ رول 81B میں اضافے کے تحت تازہ ترین ٹیکس سال کا ریٹرن تاخیر سے جمع کرانے والا فرد IRIS پورٹل پر مخصوص undertaking جمع کرا کر سرچارج کے بغیر ATL میں شامل ہونے کا اہل ہوگا۔ اس undertaking کے مطابق متعلقہ شخص چھ ماہ تک کسی جائیداد کو خریدنے، حاصل کرنے یا اس میں beneficial interest لینے سے گریز کرے گا۔ چھ ماہ کی مدت IRIS کی جانب سے فارم ATL-U کی کامیاب الیکٹرانک وصولی کی تاریخ سے شمار ہوگی۔
FBR کو اس یقین دہانی پر عملدرآمد کی جانچ کا اختیار بھی تجویز کیا گیا ہے۔ ٹیکس حکام انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت دستیاب معلومات کے علاوہ سرکاری اداروں، رجسٹریوں، مالیاتی اداروں یا دیگر قانونی ذرائع سے موصول ڈیٹا استعمال کر سکیں گے۔ اگر معلومات سے ظاہر ہو کہ چھ ماہ کے دوران متعلقہ فرد نے جائیداد میں ملکیت یا فائدہ مند مفاد حاصل کیا ہے تو کارروائی سے پہلے اسے الیکٹرانک طور پر موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
خلاف ورزی ثابت ہونے پر سرچارج کے بغیر ATL شمولیت کا فائدہ خلاف ورزی کی تاریخ سے واپس لیا جا سکے گا اور اس کے بعد ٹیکس دہندہ کی حیثیت موجودہ لیٹ فائلر قواعد کے مطابق طے ہوگی۔ مجوزہ فارم ATL-U میں نام، شناختی کارڈ یا NTN، ٹیکس سال، ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ اور IRIS حوالہ نمبر جیسی معلومات شامل ہوں گی۔

