فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کم خطرے کے زمرے میں آنے والی مکمل سیلز ٹیکس رجسٹریشن درخواستوں کو تیزی سے نمٹانے کے لیے نئی ہدایات جاری کردی ہیں۔ ایکسپریس اردو کے مطابق ریونیو ڈویژن ان لینڈ ریونیو نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 20 آف 2026 جاری کیا ہے، جس کے تحت کمپیوٹرائزڈ رسک پیرامیٹرز سے کم خطرہ قرار پانے والی درخواست پر متعلقہ لوکل رجسٹریشن آفس غیر ضروری تاخیر کے بغیر کارروائی کرے گا اور جہاں ممکن ہو تین ورکنگ دن میں رجسٹریشن دے گا۔

یہ مدت ہر درخواست کے لیے بلاشرط منظوری نہیں ہے۔ تین دن کی ترجیح ان درخواستوں کے لیے ہے جن میں تمام مطلوبہ معلومات اور دستاویزات مکمل ہوں اور رسک مینجمنٹ نظام نے کوئی مخصوص خطرہ ظاہر نہ کیا ہو۔ اضافی دستاویز یا معلومات صرف تب مانگی جاسکے گی جب سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، سیلز ٹیکس رولز 2006، فراہم کردہ معلومات کی تصدیق یا کسی شناخت شدہ خطرے کی جانچ کے لیے اس کی ضرورت ہو۔

اگر درخواست نامکمل ہو یا فراہم کردہ معلومات میں واضح کمی، غلطی یا تضاد ہو تو درخواست گزار کو جمع کرانے کے سات دن کے اندر کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے مطلع کیا جائے گا۔ اطلاع میں کمی کی نوعیت، مطلوبہ دستاویز، اسے دور کرنے کا طریقہ اور تعمیل کے لیے دستیاب وقت درج کرنا ہوگا۔ ایف بی آر نے عمومی یا مبہم اعتراضات سے منع کیا ہے اور کہا ہے کہ ہر اعتراض کو متعلقہ قانونی یا ضابطہ جاتی تقاضے سے جوڑا جائے۔

مزید جانچ کی ضرورت والی درخواست کسی افسر کو بھیجتے وقت اس کی مخصوص وجہ الیکٹرانک ریکارڈ میں محفوظ کرنا لازم ہوگا۔ درخواست گزار مطلوبہ کمی پوری کردے تو اسے پورا عمل دوبارہ شروع کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ مینوفیکچررز کے لیے متعلقہ شعبہ جاتی ایسوسی ایشن دستیاب ریکارڈ کی حد تک کاروباری مقام، سرگرمی اور رکنیت سے متعلق پری رجسٹریشن تصدیق دے سکے گی، مگر یہ سرٹیفکیٹ کسی قانونی شرط کی جگہ نہیں لے گا اور نہ کسی ٹیکس چھوٹ کا حق بنے گا۔

زیادہ خطرے یا مشکوک درخواستوں کے لیے اضافی جانچ، پری یا پوسٹ ویری فکیشن بدستور ممکن رہے گی۔ کم خطرے کی ابتدائی درجہ بندی بھی ایف بی آر کو بعد میں سامنے آنے والی غلط بیانی، جعلی دستاویز، عدم وجود یا کسی اور بے ضابطگی کی دوبارہ جانچ سے نہیں روکے گی۔ اس حکم کا اصل مقصد حقیقی کاروبار کے لیے قابل پیش گوئی مدت بنانا اور بے وجہ التوا کو کم کرنا ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک