اردو ہیڈلائنز ڈیسک
اسلام آباد: حکومت نے ملک میں اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنے کی ممکنہ صورتوں کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ فزیبلٹی اسٹڈی شروع کردی ہے۔ اس مطالعے کا مقصد کسی بڑے منصوبے کے آغاز سے پہلے تکنیکی، مالی، قانونی اور عملی پہلوؤں پر شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سازی میں مدد دینا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے منگل 25 اگست کو بین الاقوامی مشاورتی ادارے ووڈ میکینزی کے ساتھ ابتدائی اجلاس کی صدارت کی۔ ادارے کا انتخاب مسابقتی ٹینڈر کے ذریعے کیا گیا، جس میں چار بولیاں موصول ہوئی تھیں۔ اجلاس میں متعلقہ سرکاری اداروں، توانائی شعبے اور تحقیقی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں فزیبلٹی اسٹڈی کے دائرہ کار، اہداف، مدت اور مجموعی طریقۂ کار پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر پٹرولیم نے کہا کہ توانائی کی فراہمی کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ بنانا حکومت کی ترجیح ہے اور حالیہ علاقائی کشیدگی و آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات نے توانائی تحفظ کے لیے اضافی تیاری کی ضرورت نمایاں کی ہے۔ یہ حکومتی پالیسی مؤقف ہے؛ فزیبلٹی اسٹڈی کے آغاز کو ذخائر کی تعمیر یا کسی حتمی سرمایہ کاری کی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق مطالعہ مجوزہ ذخیرہ گاہوں کی تکنیکی قابلِ عمل صورت، تنصیبات کی حفاظت، آپریشنل ضروریات اور موجودہ انفراسٹرکچر کے ممکنہ استعمال کا جائزہ لے گا۔ رابطہ سڑکوں، بندرگاہی و لاجسٹک سہولتوں اور سپلائی نظام سے ہم آہنگی بھی تجزیے کا حصہ ہوگی۔
فزیبلٹی اسٹڈی میں عالمی اور علاقائی معیارات، پالیسی اور ریگولیٹری تقاضوں، قلیل، درمیانی اور طویل مدت کے نفاذی اختیارات اور مرحلہ وار ترقی کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔ قانونی، تجارتی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کے ساتھ ممکنہ سرکاری و نجی شراکت داری کے ماڈلز بھی جانچے جائیں گے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ مشاورتی ٹیم سرمایہ جاتی لاگت کے تخمینے، مالی وسائل کے ممکنہ ذرائع، نفاذ کی مدت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کے بارے میں سفارشات تیار کرے گی۔ وزیر نے تمام متعلقہ فریقوں کو ضروری معلومات اور ڈیٹا بروقت فراہم کرنے کی ہدایت دی، جبکہ پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی بنانے کا بھی بتایا گیا۔
یہ پیش رفت حکومت کی جانب سے توانائی تحفظ کے لیے جاری دیگر اقدامات سے منسلک ہے، جن میں غیر ملکی ایندھن فراہم کنندگان کے لیے بانڈڈ اسٹوریج سہولتوں کی اجازت بھی شامل ہے۔ تاہم بانڈڈ کمرشل اسٹوریج اور قومی اسٹریٹجک ذخائر الگ انتظامی و پالیسی تصورات ہیں؛ موجودہ خبر مخصوص طور پر اسٹریٹجک ذخائر کی فزیبلٹی اسٹڈی کے آغاز سے متعلق ہے۔
مطالعے کی تکمیل کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ ملک کے لیے ذخائر کی مناسب گنجائش، مقام، مالی ماڈل اور مرحلہ وار نفاذ کی کون سی صورت قابلِ عمل قرار پاتی ہے۔ اردو ہیڈلائنز ڈیسک اس مرحلے کو ابتدائی جائزہ قرار دیتے ہوئے کسی تعمیر، خریداری یا حتمی لاگت کو طے شدہ نتیجہ نہیں سمجھتا۔




