وفاقی حکومت نے جاری مالی سال کے پہلے ماہ جولائی میں مجموعی طور پر 215 ارب روپے کے قرض اور گرانٹس حاصل کیے۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق وزارت اقتصادی امور کی دستاویزات میں 210 ارب روپے قرض اور 5 ارب روپے گرانٹس کی وصولی درج ہے۔ یہ ماہانہ موصولات ہیں اور انہیں پورے مالی سال کے حتمی قرض، بجٹ خسارے یا خالص واجبات کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔
دستاویزات کے مطابق تقریباً 120 ارب روپے بجٹ معاونت اور قلیل مدتی فنانسنگ کی صورت میں حاصل ہوئے، جبکہ قریب 95 ارب روپے منصوبہ جاتی فنانسنگ کے لیے آئے۔ جولائی میں پاکستان کو 76 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے غیر ملکی قرض ملے، جو گزشتہ مالی سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 6 کروڑ 85 لاکھ ڈالر زیادہ بتائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوطرفہ اور کثیرطرفہ قرض دہندگان سے ملنے والی رقوم میں ماہانہ یا سالانہ تقابل کے دوران کمی دیکھی گئی، جبکہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس سے حاصل ہونے والی فنانسنگ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جولائی میں ان سرٹیفکیٹس کے ذریعے 34 کروڑ 39 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 19 کروڑ 62 لاکھ ڈالر تھی۔ یوں رپورٹ کردہ اضافہ تقریباً 14 کروڑ 80 لاکھ ڈالر بنتا ہے۔
دوطرفہ شراکت داروں میں جرمنی سے 99 لاکھ 40 ہزار ڈالر اور سعودی عرب سے 74 لاکھ ڈالر ملنے کی اطلاع ہے۔ کثیرطرفہ مالیاتی اداروں سے مشترکہ طور پر 25 کروڑ 28 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے 5 کروڑ 91 لاکھ 70 ہزار ڈالر اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک نے 65 لاکھ 70 ہزار ڈالر فراہم کیے۔
عالمی بینک اور اس سے وابستہ اداروں کا مجموعی حصہ 13 کروڑ ڈالر بتایا گیا، جس میں بین الاقوامی بینک برائے تعمیر نو و ترقی سے 2 کروڑ 92 لاکھ 20 ہزار ڈالر بھی شامل ہیں۔ مختلف ذرائع کی رقوم کو جمع کرتے وقت ان کی نوعیت، مدت، شرح اور منصوبہ جاتی شرطیں مختلف ہوسکتی ہیں؛ دستیاب رپورٹ ان تمام قرضوں کی لاگت یا ادائیگی کے شیڈول کی مکمل تفصیل نہیں دیتی۔
یہ اعداد حکومت کی بیرونی فنانسنگ کی ماہانہ تصویر دکھاتے ہیں۔ قرض کے پائیدار اثر کا جائزہ لینے کے لیے شرح سود، مدت، کرنسی خطرہ، منصوبوں کی پیش رفت اور واجبات کی ادائیگی کو بھی ساتھ دیکھنا ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ خبر جولائی کی موصولہ رقم اور وزارت کی دستاویزات میں درج ذریعہ وار تقسیم تک محدود ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




