اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے 14 اکتوبر 2026 کو قرار دیا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے انتظامی اور دفتری عملے کو محض پولیس محکمے میں ملازمت کی بنیاد پر رسک الاؤنس کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بینچ کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت متعلقہ ملازمین کو الاؤنس دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

ڈان کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے معاملے کی سماعت کی۔ جسٹس عامر فاروق کے تحریر کردہ فیصلے میں پولیس کے وردی پوش اہلکاروں اور انتظامی یا منسٹریل ملازمین کی خدمات کی نوعیت میں واضح فرق بیان کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ فعال اور عملی پولیس ذمہ داریاں انجام دینے والے اہلکاروں کو خطرات کا سامنا ہوتا ہے جبکہ دفتری عملے کی ملازمت کی شرائط اور فرائض الگ قانونی قواعد کے تابع ہیں۔

اس تنازعے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب پولیس محکمے کے انتظامی ملازمین نے رسک الاؤنس نہ ملنے پر قانونی چارہ جوئی کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اسی محکمے کے دوسرے ملازمین کو یہ سہولت دی جاتی ہے، اس لیے انہیں محروم رکھنا آئین کے آرٹیکل 25 میں دیے گئے مساوات کے اصول کے منافی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بینچ نے 10 اپریل 2025 کو ان کی درخواست منظور کی تھی۔ بعد میں یہ معاملہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے آیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 اور پولیس محکمے کے منسٹریل سروس رولز 1974 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ انتظامی عملے کی بھرتی، اہلیت، سروس اسٹرکچر اور ذمہ داریوں کے لیے الگ قواعد مقرر ہیں۔ فیصلے کے مطابق ان قواعد میں یہ لازم نہیں کیا گیا کہ دفتری عہدے پر تعینات ہر ملازم عملی پولیس ڈیوٹی انجام دے گا۔

عدالت کا فیصلہ الاؤنس کی اہلیت کے قانونی معیار سے متعلق ہے۔ اس میں یہ نتیجہ نہیں نکالا گیا کہ کسی دفتری ملازم کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا، بلکہ زیر بحث مخصوص رسک الاؤنس کے لیے متعلقہ ملازمت اور قانونی شرائط کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اسی وجہ سے عدالت نے محکمہ پولیس کے مختلف کیڈرز کو ایک ہی زمرے میں رکھنے کی دلیل قبول نہیں کی۔

فیصلے کے بعد متعلقہ ملازمین کے لیے رسک الاؤنس کی ادائیگی کا پچھلا عدالتی حکم برقرار نہیں رہا۔ یہ مقدمہ سرکاری اداروں میں ملازمت کی درجہ بندی، مالی مراعات اور آئینی مساوات کے اصول کے اطلاق سے متعلق ایک اہم قانونی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔