کراچی کی ایک عدالت نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور پانچ دیگر افراد کو 2018 میں درج شراب برآمدگی کے مقدمے میں بری کردیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی عاصم اسلم نے منگل کو مقدمے کا ریکارڈ اور پیش کردہ شواہد دیکھنے کے بعد فیصلہ سنایا۔ عدالت کے مطابق استغاثہ الزامات کو مطلوبہ قانونی معیار کے مطابق ثابت نہیں کر سکا، اس لیے ملزمان کی بریت کا حکم دیا گیا۔ اس فیصلے کا تعلق ایک مخصوص فوجداری مقدمے سے ہے اور اسے دوسرے معاملات پر عمومی عدالتی رائے کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔
یہ مقدمہ ستمبر 2018 کے ایک واقعے کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس وقت شرجیل میمن قومی احتساب بیورو کے ایک ریفرنس میں عدالتی تحویل میں تھے اور بیماری کی وجہ سے ڈاکٹر ضیاالدین اسپتال کے ایک کمرے میں مقیم تھے، جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق جیل حکام کو کمرے میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع ملی اور تلاشی کے دوران دو بوتلیں ملیں۔ ایک بوتل میں شراب ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا، جبکہ دوسری میں بظاہر شہد بتایا گیا تھا۔ بعد میں بوٹ بیسن تھانے میں متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں خاص طور پر کیمیائی معائنے کی رپورٹس کا جائزہ لیا۔ ان رپورٹس کے مطابق برآمد شدہ بوتلوں میں شہد اور زیتون کا تیل موجود تھا، جس سے استغاثہ کا بنیادی الزام ثابت نہیں ہوتا تھا۔ عدالتی مشاہدے کے مطابق صرف پولیس اہلکاروں کے بیانات، جب قابل اعتماد تائیدی شہادت موجود نہ ہو اور سائنسی شواہد ان کے برعکس ہوں، سزا کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری مقدمے میں الزام کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے؛ ملزم پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا بوجھ منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
مقدمے میں نشہ آور اشیا رکھنے سے متعلق قانون کی دفعہ چار کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعات 201 اور 34 بھی شامل کی گئی تھیں۔ ان دفعات کا تعلق بالترتیب مبینہ شواہد غائب کرنے یا غلط اطلاع دینے اور مشترکہ نیت سے متعلق قانونی الزامات سے تھا۔ تاہم عدالت نے دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر کہا کہ متعلقہ جرائم کے ضروری عناصر ثابت نہیں کیے جا سکے۔
دفاعی وکیل عروشہ میمن نے سماعت کے دوران مؤقف اختیار کیا تھا کہ شرجیل میمن کو سیاسی انتقام کے تحت مقدمے میں ملوث کیا گیا۔ انہوں نے کیمیائی رپورٹوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ موقع پر موجود دیگر افراد میں سے آزاد گواہوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ سیاسی انتقام کا مؤقف دفاع کا دعویٰ تھا؛ عدالت کی بریت کا بیان کردہ بنیادی قانونی جواز شواہد کی کمی اور کیمیائی رپورٹس سے استغاثہ کے الزام کی تائید نہ ہونا تھا۔ آٹھ سال بعد سامنے آنے والا فیصلہ اس مخصوص مقدمے کی عدالتی کارروائی کا نتیجہ ہے۔
