اسلام آباد: قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بدھ 14 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ ایمرجنسی کی توثیق کے لیے قراردادیں منظور کر لی ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں بحث کے بعد قرارداد اکثریتی ووٹ سے منظور ہوئی اور کچھ دیر بعد ایوان بالا نے بھی اس اقدام کی منظوری دی۔ دونوں قراردادوں کا تعلق صدر کی جانب سے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت جاری ایمرجنسی کے اعلان سے ہے۔
وفاقی حکومت نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے لیے دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور صوبائی انتظامیہ کے ساتھ انسداد دہشت گردی پر اختلافات کو بنیاد بنایا تھا۔ پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے دونوں ایوانوں میں متعلقہ تحریکیں پیش کیں۔ قومی اسمبلی میں سوالات کا وقفہ معطل کر کے اس اہم آئینی معاملے پر بحث کی گئی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ارکان کو بتایا کہ حکومت کے نزدیک صوبے کی سلامتی کی صورت حال قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی تھی۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کے فیصلے اور آئینی طریقہ کار کا حوالہ دیا۔ یہ حکومتی مؤقف ہے؛ مخالف جماعتیں ایمرجنسی کی ضرورت اور اس کی قانونی بنیاد پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔
بحث میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور تحریک انصاف کے سیاسی فیصلوں پر تنقید کی۔ تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اس اقدام کو صوبائی مینڈیٹ اور خودمختاری کے خلاف سمجھتی ہیں۔ حکومت کے حامی ارکان کے مطابق امن و امان کی صورت حال غیر معمولی اختیارات کے استعمال کا تقاضا کرتی تھی۔ ان متضاد مؤقفوں کو حتمی قانونی فیصلے کے بجائے سیاسی بحث کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ایمرجنسی کی پارلیمانی توثیق اور گورنر راج کی آئینی منظوری کے مراحل میں فرق بھی اہم ہے۔ ڈان کے مطابق آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا اعلان مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیے جانے اور اس کی مدت میں توسیع کے لیے الگ آئینی تقاضوں سے مشروط ہے۔ لہٰذا دونوں ایوانوں کی ایمرجنسی سے متعلق قراردادوں کو گورنر راج کے ہر آئندہ مرحلے کی خودکار منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔
اسی دوران تحریک انصاف نے ایمرجنسی کے خلاف عدالتی راستہ بھی اختیار کیا ہے۔ پارلیمانی قراردادوں کی منظوری ایک مصدقہ قانون ساز پیش رفت ہے، تاہم عدالت میں اٹھائے گئے آئینی اعتراضات پر حتمی فیصلہ الگ قانونی عمل کے ذریعے ہوگا۔
