پشاور: پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے اور اپنی صوبائی حکومت کی معطلی کے اقدام کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ رائٹرز کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق جماعت نے بدھ کو عدالتی کارروائی شروع کی۔ یہ قانونی پیش رفت اس سیاسی بحران کا تازہ مرحلہ ہے جو صدر آصف علی زرداری کی جانب سے اتوار کو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد پیدا ہوا۔

وفاقی حکومت نے اقدام کی وجہ صوبے میں عسکریت پسند حملوں میں اضافے اور امن و امان سے متعلق خدشات کو قرار دیا ہے۔ ایمرجنسی کے نتیجے میں عمران خان کی جماعت کی زیر قیادت صوبائی حکومت معطل ہوئی اور انتظامی اختیارات کی نئی ترتیب سامنے آئی۔ حکومتی مؤقف ہے کہ سلامتی کی صورت حال فوری اقدامات کی متقاضی تھی، تاہم اس مؤقف پر سیاسی اختلاف برقرار ہے۔

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کا اصل مقصد اس کی منتخب صوبائی حکومت کو اقتدار سے الگ کرنا، صوبائی وسائل پر اس کا اختیار ختم کرنا اور اسلام آباد کی طرف مجوزہ احتجاجی مارچ کو روکنا تھا۔ یہ جماعت کے الزامات ہیں جنہیں عدالت کے حتمی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری نے ان کے بنیادی حقوق کو دہشت گردی کے مسئلے سے منسلک کرنے پر اعتراض کیا۔

رائٹرز کے مطابق ہنگامی اقدام سے پہلے تحریک انصاف کے حامی عمران خان کی رہائی اور طبی سہولتوں کے مطالبے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ جماعت کے رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں سمیت متعدد افراد کی گرفتاریوں کی بھی اطلاع دی گئی۔ عمران خان کے اہل خانہ ان کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے ہیں، جبکہ وہ اپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔ ان معاملات میں فریقین کے مؤقف الگ الگ ہیں۔

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ وفاقی نمائندوں کے مطابق حکومت نے دہشت گردی کی مذمت اور انسداد دہشت گردی اقدامات میں تعاون کے مطالبات پیش کیے، لیکن بات چیت کسی مشترکہ نتیجے پر نہیں پہنچی۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے دونوں فریقوں سے بامعنی سیاسی مذاکرات بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔

عدالت میں درخواست دائر ہونا ایمرجنسی کے غیر آئینی قرار دیے جانے کے مترادف نہیں۔ اس خبر کے وقت تک پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے اس تازہ درخواست پر کوئی حتمی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا تھا۔ اس لیے آئندہ قانونی سماعت اور وفاق و صوبے کے درمیان سیاسی رابطے اہم رہیں گے۔