کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع واشک میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی جس میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پانچ مشتبہ عسکریت پسند ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ بدھ 14 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا کہ کارروائی کے دوران مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور اسلحہ و گولہ بارود بھی قبضے میں لیا گیا۔
ڈان نے سرکاری پاکستان ٹیلی وژن کی خبر کے حوالے سے بتایا کہ آپریشن سکیورٹی ذرائع کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا۔ ان ذرائع کے مطابق کارروائی میں جدید ہتھیار استعمال ہوئے اور ہدف بنائے گئے مقامات پر موجود افراد کا تعلق ان گروہوں سے تھا جنہیں ریاستی بیانیے میں فتنہ الہندوستان کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح حکومت بلوچستان میں سرگرم بعض مسلح تنظیموں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ افراد کی شناخت اور ان کے ممکنہ روابط سے متعلق دعوے سرکاری ذرائع کے ہیں؛ رپورٹ میں آزادانہ تصدیق یا عدالتی نتیجے کا ذکر نہیں۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی آپریشن ردالفتنہ تھری کے تحت کی گئی۔ سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے زیر استعمال ٹھکانوں سے ہتھیار اور گولہ بارود ملا۔ تاہم برآمدگی کی مکمل فہرست، گرفتار افراد کی موجودگی یا جائے وقوعہ کی آزادانہ جانچ کی تفصیلات ابتدائی خبر میں فراہم نہیں کی گئیں۔ اسی لیے دستیاب معلومات کو سرکاری مؤقف کی حدود میں بیان کرنا ضروری ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے واشک میں کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وفاقی سطح پر اس کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات کا حصہ سمجھا جارہا ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم برقرار ہے۔
بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال سے متعلق خبریں اکثر ابتدائی طور پر متعلقہ اداروں کے بیانات کے ذریعے سامنے آتی ہیں۔ اس معاملے میں بھی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد، افراد کی وابستگی اور اسلحے کی برآمدگی کی معلومات انہی ذرائع سے منسوب ہیں۔ مقامی شہری آبادی کے ممکنہ متاثر ہونے یا آپریشن کے بعد مزید اقدامات سے متعلق کوئی مصدقہ اضافی تفصیل اس رپورٹ میں شامل نہیں۔
واقعے کے بعد حکام کی مزید بریفنگ یا تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر آپریشن کے دائرہ کار اور نتائج کی زیادہ مکمل تصویر مل سکے گی۔
