وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو عہدے سے ہٹانے کے لیے جاری ڈی نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے متعلقہ قانونی اور انتظامی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ جج کو عہدے سے الگ کرنے کی کارروائی مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتی۔

انسداد دہشت گردی عدالتیں سنگین نوعیت کے فوجداری مقدمات کی سماعت کرتی ہیں اور ان کے ججوں کی تقرری، تبادلے اور انتظامی حیثیت متعلقہ قوانین اور عدالتی انتظام کے تحت طے ہوتی ہے۔ کسی جج کا ڈی نوٹیفکیشن صرف انتظامی معاملہ نہیں رہتا جب اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے؛ پھر یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ متعلقہ اختیار کس ادارے کے پاس تھا اور کیا لازمی قانونی طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔

وفاقی آئینی عدالت کے تازہ حکم کا فوری اثر یہ ہے کہ متعلقہ جج کی سابقہ عدالتی حیثیت بحال ہو گئی ہے اور ڈی نوٹیفکیشن کی بنیاد پر پیدا ہونے والی رکاوٹ ختم ہو گئی ہے۔ تاہم حکم کی مکمل قانونی وجوہات اور کسی مزید اپیل یا نظرثانی کے امکانات عدالتی فیصلے اور متعلقہ قانون کے مطابق طے ہوں گے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور دیگر سنگین مقدمات زیر سماعت رہتے ہیں۔ جج کی تبدیلی یا عدالت کی انتظامی تشکیل میں رکاوٹ زیر سماعت مقدمات کی رفتار پر اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے عدالتی عہدوں سے متعلق تنازعات کا بروقت حل انصاف کے نظام کے تسلسل کے لیے اہم ہے۔

تازہ فیصلہ کسی زیر سماعت فوجداری مقدمے کے میرٹ پر حکم نہیں ہے بلکہ جج کی انتظامی و قانونی حیثیت سے متعلق ہے۔ اس لیے اسے ان مقدمات میں ملزمان کے جرم یا بے گناہی سے جوڑنا درست نہیں ہو گا۔ متعلقہ مقدمات اپنے شواہد اور قانونی کارروائی کے مطابق الگ الگ آگے بڑھیں گے۔