پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ تعلقات کو معاشی، تجارتی اور ادارہ جاتی سطح پر وسعت دینے کے لیے 20 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے، جبکہ دونوں حکومتوں نے آئندہ دو برس میں باہمی تجارت کو 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا۔ یہ پیش رفت مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے تین روزہ سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران ہوئی، جو کسی مالدیپی صدر کا 11 برس بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے اور دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع سے بھی جڑا ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر محمد معیزو نے دستاویزات کے تبادلے کی تقریب دیکھی۔ سرکاری اور معتبر پاکستانی ذرائع کے مطابق تعاون کے دائرے میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت، سیاحت، موسمیاتی تبدیلی، ثقافت، سفارتی تربیت اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ روایتی دوستانہ تعلقات کو زیادہ ٹھوس اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔

پاکستان اور مالدیپ کی موجودہ دوطرفہ تجارت تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے، جسے دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کا ہدف موجودہ حجم کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ تاہم یہ ایک پالیسی ہدف ہے، مکمل شدہ تجارتی نتیجہ نہیں؛ اس کے حصول کا انحصار نجی شعبے کی شمولیت، مارکیٹ تک رسائی، تجارتی سہولت کاری، نقل و حمل اور متعلقہ معاہدوں کے عملی نفاذ پر ہوگا۔

صدر معیزو کے دورے کے دوران دونوں ملکوں نے اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کے تسلسل اور مختلف وزارتوں و اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ پاکستان نے مالدیپ کے ساتھ تعلقات کو بحرِ ہند اور جنوبی ایشیا کے تناظر میں اہم قرار دیا، جبکہ مالدیپی قیادت نے تجارت اور انسانی وسائل سمیت متعدد شعبوں میں پاکستان کے ساتھ روابط بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔

دستخط شدہ دستاویزات کی تعداد اور تجارتی ہدف اس دورے کو محض رسمی سفارتی رابطے سے آگے لے جاتے ہیں، لیکن ہر مفاہمتی یادداشت کے عملی نتائج الگ الگ عمل درآمد، مالی وسائل اور متعلقہ اداروں کے فیصلوں سے مشروط ہوں گے۔ آئندہ مرحلے میں اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ دونوں حکومتیں طے شدہ فریم ورک کو قابلِ پیمائش تجارت، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی منصوبوں میں کس حد تک تبدیل کرتی ہیں۔