پاکستان اور یورپی یونین نے سلامتی، انسداد دہشت گردی اور علاقائی امور میں تعاون مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر رابطہ جاری رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کی یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس میں پاکستان کے پالیسی افسر کونراڈ ڈوڈا اور پاکستان میں یورپی یونین وفد کے سیاسی، تجارتی اور کمیونیکیشن سیکشن کے سربراہ پیوٹر بشٹا سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ملاقات میں دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ علاقائی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گفتگو میں مشرق وسطیٰ میں امن اور مذاکرات کے لیے پاکستان کے کردار سے متعلق امور اور یورپی یونین کے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس، یعنی جی ایس پی پلس، فریم ورک بھی شامل تھا۔ دستیاب سرکاری تفصیلات میں کسی نئے معاہدے، مخصوص سکیورٹی آپریشن یا مالی پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے اس پیش رفت کو تعاون اور پالیسی رابطے کو مضبوط بنانے کے سیاسی و سفارتی عزم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مسلسل رابطے اور تعمیری مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے، علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ادارہ جاتی رابطہ اہم ہے۔ یورپی نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں سلامتی اور انسداد دہشت گردی کا موضوع ایسے وقت میں شامل ہوا ہے جب پاکستان کو داخلی اور سرحدی سلامتی کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور یورپی شراکت دار خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

جی ایس پی پلس کا ذکر ملاقات کے اقتصادی اور تجارتی پہلو کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ یورپی یونین کا ترجیحی تجارتی فریم ورک ہے جس کے تحت اہل ممالک کو یورپی منڈی تک مخصوص تجارتی سہولت ملتی ہے، جبکہ اس سے منسلک بین الاقوامی کنونشنز اور پالیسی تقاضوں پر پیش رفت بھی اہم رہتی ہے۔ تاہم اس ملاقات سے جی ایس پی پلس کی حیثیت میں کسی فوری تبدیلی یا نئی رعایت کا اعلان نہیں ہوا۔

دونوں فریقوں نے باہمی تشویش کے معاملات پر تعاون جاری رکھنے کی اہمیت دہرائی اور پاکستان۔یورپی یونین تعلقات کو امن، سلامتی اور ترقی کے وسیع تناظر میں آگے بڑھانے پر زور دیا۔ آئندہ اس رابطے کی عملی اہمیت اس بات سے واضح ہوگی کہ انسداد دہشت گردی، قانونی و ادارہ جاتی تعاون، تجارت اور علاقائی سفارت کاری میں کن مخصوص اقدامات یا مذاکراتی فریم ورکس پر پیش رفت ہوتی ہے۔ فی الحال سرکاری بیان کا مرکزی نکتہ مسلسل رابطہ اور موجودہ تعاون کو گہرا کرنے کا عزم ہے۔