نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد سلامتی اور انسانی امداد کے انتظام کے لیے زیرِ غور بین الاقوامی استحکام فورس میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر مشاورت جاری ہے، لیکن حکومت نے پاکستانی فوج کی تعیناتی کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق اسلام آباد کسی بھی انتظام میں شمولیت سے پہلے فورس کے مینڈیٹ، قانونی بنیاد، کمانڈ ڈھانچے اور فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق سے متعلق پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔
پاکستانی حکومت نے غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کو اپنی بنیادی پالیسی قرار دیا ہے۔ اسحاق ڈار کے بیان کے مطابق پاکستان دوست اور شراکت دار ممالک کے ساتھ اس سوال پر رابطے میں ہے کہ جنگ بندی کے بعد امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی برادری کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مشاورت اور کسی ممکنہ کردار پر غور کو فوجی تعیناتی کی منظوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
غزہ کے لیے کسی بین الاقوامی استحکام فورس کا تصور کئی حساس قانونی اور سیاسی سوالات سے جڑا ہے۔ ان میں اقوام متحدہ یا کسی دوسرے بین الاقوامی مینڈیٹ کی نوعیت، فلسطینی اتھارٹی اور مقامی نمائندگی، اسرائیل کے ساتھ انتظامی رابطہ، غیر مسلح کرنے یا سلامتی برقرار رکھنے کی ذمہ داری اور انسانی امداد کے تحفظ جیسے معاملات شامل ہیں۔ پاکستان کی جانب سے کسی بھی عملی شرکت کے لیے ان نکات پر واضح فریم ورک ضروری ہوگا۔
اسلام آباد کا دیرینہ موقف ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل دو ریاستی فارمولے اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام میں ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ پاکستانی حکام نے غزہ میں شہری ہلاکتوں اور انسانی بحران پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کی حمایت کی ہے۔
اسحاق ڈار کا تازہ بیان اس لیے اہم ہے کہ ممکنہ بین الاقوامی فورس میں پاکستان کی شمولیت سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ حکومتی وضاحت کے مطابق اس وقت معاملہ مشاورتی مرحلے میں ہے۔ کسی بھی آئندہ فیصلے کو اسی وقت حتمی سمجھا جا سکے گا جب وفاقی حکومت باقاعدہ طور پر مینڈیٹ، پاکستانی اہلکاروں کے کردار، تعیناتی کی شرائط اور قانونی منظوری کی تفصیلات جاری کرے۔
غزہ میں کسی استحکام فورس کی کامیابی بھی صرف فوجی موجودگی پر منحصر نہیں ہوگی۔ جنگ بندی کی پابندی، انسانی امداد کی رسائی، فلسطینی سیاسی انتظام، تعمیر نو اور دیرپا سیاسی تصفیہ بنیادی عناصر ہوں گے۔ پاکستان نے اسی تناظر میں سلامتی کے کسی بھی انتظام کو فلسطینی حقِ خود ارادیت اور مستقل سیاسی حل سے منسلک رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

