وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے سماجی شمولیت، ادارہ جاتی احتساب اور شہریوں کی مساوی شرکت کو قومی پالیسی کا بنیادی حصہ بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے آواز II پروگرام سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کا مفہوم صرف بنیادی ڈھانچے یا معاشی اعداد و شمار تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں، معذور افراد اور کمزور طبقات کے لیے حقیقی مواقع اور ریاستی اداروں تک رسائی بھی شامل ہونی چاہیے۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ حکومت قومی ترقی کے منصوبوں میں شمولیتی طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے اور مختلف علاقوں کے درمیان مواقع کے فرق کو کم کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان اور دیگر نسبتاً پسماندہ خطوں میں تعلیم، روزگار، مہارت اور نوجوانوں کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہاں کے شہری قومی معاشی عمل میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہزاروں مواقع پیدا کیے گئے ہیں اور بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے بھی مخصوص حصہ رکھا گیا ہے۔
احسن اقبال نے ادارہ جاتی احتساب کو سماجی اعتماد کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور سرکاری اداروں کے درمیان موثر رابطہ، شکایات کے ازالے کا نظام اور مقامی سطح پر جواب دہی ترقیاتی پروگراموں کی کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو ایسی پالیسیاں اختیار کرنا ہوں گی جن میں کمزور طبقات صرف امداد کے وصول کنندہ نہ ہوں بلکہ فیصلہ سازی اور ترقیاتی ترجیحات کے تعین میں بھی شریک ہوں۔
انہوں نے تعلیم اور سرکاری امتحانات میں زبان اور رسائی کے مسئلے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ قومی سطح کے مسابقتی نظام میں مختلف سماجی و تعلیمی پس منظر رکھنے والے امیدواروں کو مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ وزیر نے اردو سمیت پاکستانی زبانوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زبان کو قابلیت کی راہ میں غیر ضروری رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ تاہم اس حوالے سے بیان کو کسی فوری قانونی یا امتحانی ضابطے کی تبدیلی کے بجائے پالیسی سمت اور اصلاحاتی ترجیح کے طور پر سمجھنا ضروری ہے، جب تک متعلقہ ادارے باضابطہ قواعد جاری نہ کریں۔
آواز II جیسے پروگرام شہری شمولیت، خواتین اور بچوں کے تحفظ، جبری و کم عمری کی شادی، صنفی تشدد اور کمزور گروہوں کے حقوق سے متعلق مقامی اداروں اور برادریوں کی صلاحیت بہتر بنانے پر کام کرتے رہے ہیں۔ تقریب میں حکومتی نمائندوں اور ترقیاتی شراکت داروں نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کے ساتھ عمل درآمد، مقامی نگرانی اور قابلِ اعتماد ڈیٹا بھی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر کا بیان حکومت کے وسیع تر ترقیاتی بیانیے کی عکاسی کرتا ہے، لیکن سماجی شمولیت کے اہداف کی کامیابی کا عملی معیار بجٹ کی فراہمی، صوبائی و مقامی اداروں کی کارکردگی، روزگار اور تعلیم کے قابلِ پیمائش نتائج اور شکایات کے موثر ازالے سے طے ہوگا۔ اعلان کردہ ترجیحات کو نتائج میں بدلنے کے لیے مسلسل نگرانی اور عوامی سطح پر پیش رفت کی شفاف رپورٹنگ اہم رہے گی۔

