پاکستان اور افغانستان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کا مقصد حالیہ سرحدی جھڑپوں اور بڑھتی کشیدگی کو روکنا اور دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سلامتی سے متعلق تنازعات کے لیے مذاکراتی راستہ بحال کرنا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق مذاکرات میں سرحد پار دہشت گردی، افغان سرزمین کے استعمال اور پاکستان کی سلامتی سے متعلق بنیادی تحفظات نمایاں رہے۔
قطری وزارت خارجہ نے مذاکرات کے بعد جاری بیان میں کہا کہ دونوں فریق فوری جنگ بندی اور امن و استحکام کو مضبوط کرنے کے لیے ایسے طریقہ کار کے قیام پر متفق ہوئے ہیں جو معاہدے کے تسلسل اور اس کے قابلِ اعتماد نفاذ میں مدد دے سکے۔ قطر کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے وفود آنے والے دنوں میں مزید اجلاس کریں گے تاکہ جنگ بندی کی پائیداری اور اس کی نگرانی کے عملی پہلوؤں پر پیش رفت ہو سکے۔
پاکستانی وفد میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور اعلیٰ سکیورٹی حکام شامل تھے۔ اسلام آباد کا موقف رہا ہے کہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک عناصر پاکستان کے اندر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں اور کابل کی عبوری حکومت کو ان گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔ افغان طالبان حکومت اس الزام کی نوعیت اور پاکستان کی بعض کارروائیوں سے متعلق اپنے اعتراضات پیش کرتی رہی ہے۔ ایسے دعووں کو فریقین کے سرکاری موقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے کیونکہ سرحدی واقعات اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے کئی پہلو متنازع اور آزادانہ تصدیق کے محتاج رہتے ہیں۔
دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی حالیہ کشیدگی کے بعد ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، لیکن یہ ابھی جامع سیاسی یا سلامتی معاہدہ نہیں۔ اصل امتحان اس بات کا ہوگا کہ سرحد پر فائرنگ اور فوجی کارروائیاں کس حد تک رکتی ہیں، دونوں حکومتیں رابطے کے موثر ذرائع قائم کرتی ہیں یا نہیں، اور دہشت گردی سے متعلق پاکستان کے تحفظات پر قابلِ پیمائش اقدامات سامنے آتے ہیں یا نہیں۔
قطر اور ترکیہ نے ثالث کے طور پر بات چیت کو جاری رکھنے کی حمایت کی ہے۔ دونوں ممالک کے لیے یہ عمل خطے میں وسیع تر عدم استحکام کو روکنے سے بھی جڑا ہے، کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل کشیدگی تجارت، سرحدی آمدورفت، مہاجرین اور علاقائی سلامتی پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ آئندہ مذاکرات میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں رابطے، تصدیق اور جواب دہی کا طریقہ کار مرکزی موضوع بننے کی توقع ہے۔
اس مرحلے پر فوری جنگ بندی کا اعلان تشدد میں کمی کا موقع فراہم کرتا ہے، تاہم اسے مستقل امن کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پائیدار نتیجے کے لیے دونوں فریقوں کو طے شدہ اقدامات پر عمل، سرحدی واقعات کی مشترکہ یا قابلِ اعتماد تصدیق اور دہشت گرد گروہوں سے متعلق اختلافات کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات کرنا ہوں گے۔

