اسلام آباد میں وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت نے خیبر پختونخوا میں وفاقی انتظام کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی، انتظامی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ ڈان کی 4 نومبر کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والی مشاورت میں صوبے کے معاملات اور وفاقی حکومت کے آئندہ لائحہ عمل پر گفتگو کی گئی۔
یہ مشاورت ایسے وقت ہوئی جب خیبر پختونخوا میں سیاسی تبدیلی کے بعد وفاقی سطح پر صوبے کے انتظام، امن و امان اور سیاسی ردعمل سے متعلق فیصلے اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اتحادی قیادت نے صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور اس امر پر زور دیا کہ صوبے میں حکومتی امور آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق چلائے جائیں۔
وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان رابطہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وفاقی حکومت کو صوبے سے متعلق اہم فیصلوں میں اتحادی جماعتوں کی سیاسی حمایت اور مشاورت درکار ہے۔ خیبر پختونخوا کی صورتحال گزشتہ دنوں قومی سیاست کا مرکزی موضوع بنی رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف کی قیادت وفاقی اقدامات پر تنقید کرتی رہی ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقے امن و امان اور انتظامی استحکام کو اپنی ترجیح قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں صوبے کے مجموعی حالات کے ساتھ سیاسی رابطوں اور مستقبل کے انتظامی اقدامات پر بھی بات ہوئی۔ تاہم مشاورت کے بعد کسی نئے آئینی اقدام، مدت یا انتظامی تبدیلی کا تفصیلی سرکاری نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت اعلیٰ سطحی جائزے اور اتحادی مشاورت تک محدود ہے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے باعث امن و امان کا معاملہ پہلے ہی وفاق اور صوبے کے درمیان اہم موضوع رہا ہے۔ وفاقی قیادت کی موجودہ مشاورت میں بھی صوبے کے انتظامی استحکام کو قومی سلامتی اور سیاسی تسلسل کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ کسی بھی آئندہ اقدام کی نوعیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ وفاقی حکومت آئینی تقاضوں، اتحادیوں کی رائے اور زمینی سکیورٹی صورتحال کو کس طرح یکجا کرتی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے بیانات میں اس پیش رفت کی مختلف تشریحات سامنے آ سکتی ہیں، تاہم زیرِ بحث اجلاس کے بارے میں دستیاب معلومات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وفاقی اور اتحادی قیادت نے صورتحال کا جائزہ لیا اور آئندہ حکمت عملی پر مشاورت کی۔ مزید فیصلوں کو ان کے باضابطہ اعلان یا سرکاری دستاویزات سامنے آنے کے بعد ہی حتمی قرار دیا جا سکے گا۔

