اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے FIA اور یورپی بارڈر و کوسٹ گارڈ ایجنسی Frontex نے انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی ہجرت اور مشکوک سرحدی سفر سے متعلق حساس معلومات کے محفوظ اور ریئل ٹائم تبادلے کے لیے ایک باقاعدہ رابطہ نظام قائم کرنے پر بات چیت کی ہے۔ The News کے مطابق Frontex کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہانس لیجٹنز کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے 15 ستمبر کو FIA ہیڈکوارٹر اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں پاکستانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل FIA ڈاکٹر عثمان انور نے کی۔
ملاقات میں بارڈر سکیورٹی، امیگریشن مینجمنٹ، دستاویزات اور شناخت کی جانچ، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اور غیر قانونی ہجرت کے طریقوں پر توجہ دی گئی۔ FIA حکام نے Frontex وفد کو گزشتہ ایک سال کے دوران امیگریشن چیکس سخت کرنے، رسک بیسڈ مسافر پروفائلنگ، ڈیٹا ویری فکیشن اور مشکوک سفری پیٹرن کی جلد نشاندہی کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وفد نے FIA کے رسک اینالیسس یونٹ اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا بھی دورہ کیا۔
The News کی رپورٹ کے مطابق ایک اہم تجویز FIA اور Frontex کے نامزد حکام کے درمیان براہِ راست ہاٹ لائن قائم کرنے کی ہے، تاکہ وقت حساس انٹیلی جنس روایتی دفتری تاخیر کے بغیر شیئر کی جا سکے۔ دونوں فریقوں نے Frontex ہیڈکوارٹر وارسا میں پاکستانی نمائندہ تعینات کرنے یا متبادل طور پر مستقل لائزن میکانزم بنانے پر بھی غور کیا۔ ایسا نظام مشکوک سفر، جعلی سفری دستاویزات اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی بروقت شناخت کے ساتھ ساتھ قانونی طور پر سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کی معلومات کی تیز تر تصدیق میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
FIA کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2025 کے دوران 39,786 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا، جبکہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے خلاف کارروائیوں میں 3,345 افراد گرفتار اور 7,039 مقدمات درج کیے گئے۔ حکام نے برطانیہ میں پاکستانی شہریوں کی پناہ کی درخواستوں میں کمی کا بھی حوالہ دیا، جو مارچ 2025 پر ختم ہونے والے سال میں 11,226 سے کم ہو کر مارچ 2026 پر ختم ہونے والے سال میں 9,438 رہ گئیں۔ FIA نے اس کمی کو بہتر چیکس، پروفائلنگ اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی سے جوڑا ہے۔
Frontex وفد 13 سے 16 ستمبر تک پاکستان کے دورے پر ہے اور اس کے پروگرام میں وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، امیگریشن، سرحدی اور سکیورٹی حکام کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ دورے کے اختتام سے قبل وفد کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بارڈر کنٹرول، سیکنڈ لائن چیکس اور مسافر پروفائلنگ پر بھی بریفنگ دی جانی ہے۔ ہاٹ لائن یا مستقل رابطہ افسر کی تجاویز ابھی زیرِ غور ہیں؛ دستیاب رپورٹ میں ان کی حتمی منظوری یا نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
