گجرات/حافظ آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے حافظ آباد میں موجود گندم کے ذخائر سے ہزاروں بوریاں مبینہ طور پر غائب ہونے کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انکوائری پاسکو کے منیجنگ ڈائریکٹر کی جانب سے معاملہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو بھیجے جانے کے بعد شروع ہوئی۔

رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاسکو ہیڈکوارٹرز اور ایف آئی اے کی ابتدائی جانچ میں ذخائر میں تقریباً 50 ہزار گندم کی بوریوں کی کمی سامنے آئی ہے۔ یہ تعداد فی الحال ابتدائی تحقیقات کا حصہ ہے اور کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں ہوا۔ ایف آئی اے کی تفتیش کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ اسٹاک میں کمی کس طرح ہوئی، اس میں کون سے افراد یا انتظامی خامیاں ممکنہ طور پر ملوث تھیں اور قومی خزانے کو کتنا مالی نقصان پہنچا۔

پاسکو کے منیجنگ ڈائریکٹر نے معاملے کی جامع جانچ کے لیے خصوصی آڈٹ اور انسپیکشن کمیٹی بھی قائم کی ہے۔ کمیٹی کو دستیاب گندم کے ذخائر کی پڑتال کے ساتھ سرکاری ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایف آئی اے کے گوجرانوالہ زون کے ڈائریکٹر کو انکوائری کی نگرانی سونپی گئی ہے اور تحقیقاتی ٹیم نے کام شروع کر دیا ہے۔

ڈان نے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ حافظ آباد پاسکو زون کے سات سینئر اہلکار، جن میں زونل سربراہ اور پراجیکٹ منیجر بھی شامل بتائے گئے ہیں، معاملہ سامنے آنے کے بعد دستیاب نہیں تھے۔ تاہم ان افراد کے خلاف کسی جرم کا ثابت ہونا یا باقاعدہ الزام عائد ہونا رپورٹ میں حتمی نتیجے کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اس لیے ان کی ممکنہ ذمہ داری کا فیصلہ تحقیقاتی عمل اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی ہوگا۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اگر تحقیقات میں قابلِ تعزیر شواہد سامنے آئے تو ذمہ دار قرار پانے والے افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ مرحلے پر معاملہ انکوائری اور اسٹاک کی تصدیق تک محدود ہے۔ پاسکو ملک میں زرعی اجناس، خصوصاً گندم کی خریداری اور ذخیرہ کاری سے متعلق اہم سرکاری ادارہ ہے، اس لیے ذخائر میں بڑی کمی کے دعوے کی مالی اور انتظامی دونوں حوالوں سے اہمیت ہے۔ حتمی نقصان اور ذمہ داری کی مقدار ایف آئی اے اور خصوصی آڈٹ کی تکمیل کے بعد واضح ہوگی۔