پیرس: جنگلات کے تحفظ سے متعلق نئی بین الاقوامی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران دنیا بھر میں جنگلات کی مستقل کٹائی کی رفتار میں کمی آئی، لیکن وسطی افریقہ کے کانگو بیسن میں صورتحال خراب ہوئی ہے۔ سالانہ فارسٹ ڈیکلریشن اسیسمنٹ کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 70 لاکھ ہیکٹر جنگلات مستقل طور پر ختم ہوئے۔ یہ رقبہ ایک بڑے یورپی ملک کے حجم کے قریب ہے اور اس میں پچھلے سال کے مقابلے میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ جائزہ تحقیقی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد نے تیار کیا۔ ماہرین نے واضح کیا کہ ایک سال کی بہتری کو دیرپا تبدیلی نہیں سمجھا جاسکتا۔ عالمی برادری نے 2021 میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کے دوران 2030 تک جنگلات کی کٹائی ختم کرنے کے ہدف پر اتفاق کیا تھا، لیکن موجودہ رفتار اس وعدے کی تکمیل کے لیے ناکافی ہے۔
تحقیق کی شریک مصنف ایرن میٹسن کے مطابق کٹائی میں کمی حوصلہ افزا ضرور ہے مگر اسے نیا مستقل رجحان کہنا قبل از وقت ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق 2030 کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہر سال جنگلات کی کٹائی میں تقریباً دس لاکھ ہیکٹر کی مزید کمی ضروری ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ چند علاقوں میں بہتری کے باوجود مجموعی عالمی کوششوں کو مسلسل تیز کرنا ہوگا۔
جنگلات کے خاتمے کی بڑی وجوہ میں زرعی زمین کا پھیلاؤ اور معدنیات کی کان کنی شامل ہیں۔ لاطینی امریکا میں 2025 کے دوران کٹائی میں تقریباً 33 فیصد کمی نے عالمی اعدادوشمار بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں برازیل کے ایمیزون خطے میں نگرانی، قانونی کارروائی اور جنگلات کے تحفظ کے اقدامات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ تاہم ماہرین نے متنبہ کیا کہ حکومتی ترجیحات اور انتخابات کے نتیجے میں پالیسیوں میں تبدیلی سے یہ پیشرفت متاثر ہوسکتی ہے۔
دوسری طرف کانگو بیسن میں بارانی جنگلات کا نقصان تقریباً 24 لاکھ ہیکٹر تک پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ مقدار پہلی بار ایمیزون کے جنگلات میں کٹائی کی سطح کے قریب آگئی ہے۔ کیمرون کے ماحولیاتی ماہر سام نگیفو نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگلات کی کمی مقامی اور قدیم آبادیوں کے روزگار، ثقافتی شناخت اور رہائش پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔
ماہرین نے ال نینو موسمی رجحان کو بھی آئندہ برسوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں خشک سالی اور جنگلات میں آگ لگنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر 2026 اور 2027 میں غیر معمولی طور پر طاقتور ال نینو سے متعلق پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو گرم مرطوب جنگلات کے خطوں میں آگ اور خشکی کے خطرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ عالمی سطح پر ایک سال کی کمی کافی نہیں۔ جنگلات کے تحفظ کے لیے قوانین پر عمل درآمد، زرعی توسیع کی نگرانی، مقامی آبادیوں کے حقوق اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی طویل مدتی حکمت عملی ضروری ہوگی۔

