اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے صارفین پر گزشتہ برسوں کی مد میں 268 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی کوشش کی مخالفت کی ہے۔ روزنامہ ڈان کی 12 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق کاروباری تنظیم نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کو تحریری اعتراضات بھیجے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ ان مالی مطالبات کو متعلقہ شواہد اور گزشتہ فیصلوں کی روشنی میں جانچا جائے۔
بجلی تقسیم کرنے والی دس کمپنیوں نے کیلنڈر سال 2027 کے لیے اپنے کثیرسالہ ٹیرف کی انڈیکسیشن اور دیگر ایڈجسٹمنٹس کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ان کمپنیوں نے بجلی کی تقسیم اور فراہمی کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 2.64 کھرب روپے کی آمدنی کی ضرورت ظاہر کی ہے۔ یہ اعداد ان کی درخواستوں سے متعلق ہیں؛ انہیں نیپرا کی منظورشدہ رقم یا صارفین پر نافذ شدہ بل نہیں سمجھنا چاہیے۔
ایف پی سی سی آئی نے ان درخواستوں کی جانچ کے لیے ایک خصوصی توانائی مشاورتی کمیٹی قائم کی۔ تنظیم کے مطابق کمیٹی نے ورکنگ کیپیٹل، بجلی کی خریداری کی قیمتوں، سابقہ سالوں کی ایڈجسٹمنٹس اور آمدنی کی بنیاد پر منافع جیسے نکات کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد تنظیم نے موقف اختیار کیا کہ متعدد مطالبات یا تو پہلے ریگولیٹر مسترد کر چکا ہے، یا ان پر دوسرے فریقوں کا تنازع موجود ہے، یا دستیاب تفصیل آزادانہ تصدیق کے لیے ناکافی ہے۔
کاروباری تنظیم کے جائزے کے مطابق اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سابقہ سالوں کی ایڈجسٹمنٹ کے مطالبات اس کے مجوزہ سالانہ مارجن کے دو گنا سے بھی زائد تھے۔ دوسری جانب سکھر، فیصل آباد، ملتان اور کوئٹہ کی تقسیم کار کمپنیوں کی درخواستوں میں بھی ایسے مطالبات کی بڑی شرح بتائی گئی۔ تنظیم نے یہ نسبتیں اپنے تجزیے کی بنیاد پر پیش کی ہیں؛ کسی خاص کمپنی کے تمام دعووں کے ناجائز ہونے کا فیصلہ ابھی نیپرا نے نہیں سنایا۔
ایف پی سی سی آئی نے نیپرا سے کہا ہے کہ مجموعی رقم کو ایک ہی مد میں منظور کرنے کے بجائے ہر جزو کی الگ جانچ کی جائے۔ اس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تقسیم کار کمپنیاں عوامی سماعت سے پہلے ہر اعتراض کا واضح تحریری جواب دیں اور صنعت و تجارت کے نمائندوں کو متعلقہ سماعتوں میں مؤثر شرکت کی اجازت ملے۔
اس اختلاف کا نتیجہ بجلی کے مستقبل کے نرخوں، کاروباری لاگت اور عام صارف کے بل پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ تاہم آخری فیصلہ ریگولیٹری کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ فی الحال خبر ایک کاروباری تنظیم کے تحریری اعتراض اور تقسیم کار کمپنیوں کی زیرغور درخواستوں سے متعلق ہے، نہ کہ کسی حتمی نئے سرچارج کے نفاذ سے۔

