ہانگ کانگ: چین کی ٹیکنالوجی کمپنی ٹین سینٹ نے بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں سے وسائل حاصل کرنے کے لیے امریکی ڈالر اور چین سے باہر گردش کرنے والے یوآن میں قرض کی نئی سیکیورٹیز جاری کرنے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی 12 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ بانڈز کمپنی کے عالمی میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت پیش کیے جائیں گے۔ یہ ایک ممکنہ مالیاتی لین دین ہے؛ رپورٹ کے وقت بانڈز کی حتمی رقم یا فروخت مکمل ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی ڈالر میں دس اور بیس سالہ مدت کے بانڈز زیرغور ہیں جبکہ بیرون ملک یوآن میں دس اور تیس سالہ مدت کے قرضی کاغذات پیش کرنے کا امکان ہے۔ یہ بانڈز سینئر اور غیرمحفوظ نوعیت کے ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کی ادائیگی کے لیے کسی مخصوص اثاثے کو بطور ضمانت گروی رکھنے کا انتظام بیان نہیں کیا گیا، جبکہ بانڈ ہولڈرز کے حقوق قرض کی متعلقہ قانونی شرائط سے طے ہوں گے۔

امریکی ڈالر والے حصے کی ممکنہ پیش کش کے انتظام میں جے پی مورگن، گولڈمین ساکس، ایچ ایس بی سی اور مورگن اسٹینلے جیسے عالمی مالیاتی اداروں کا نام سامنے آیا ہے۔ یوآن والے حصے میں چینی اور بین الاقوامی بینک کردار ادا کریں گے، جن میں آئی سی بی سی ایشیا، بینک آف چائنا اور سی آئی ٹی آئی سی سیکیورٹیز شامل ہیں۔ ان اداروں کی شمولیت ممکنہ اجراء کی تیاری سے متعلق ہے؛ ہر سرمایہ کار کے لیے بانڈز کی دستیابی یا کسی خاص قیمت کی ضمانت نہیں۔

کمپنی نے سرمایہ کاروں سے رابطوں اور پیش کش سے پہلے بات چیت کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ ایسے رابطوں کا مقصد قرض لینے والی کمپنی کی ضروریات، سرمایہ کاروں کی طلب اور مارکیٹ میں متوقع شرح منافع کا اندازہ لگانا ہوتا ہے۔ اس مرحلے کے بعد ہی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ بانڈز جاری ہوں گے یا نہیں، اور اگر ہوں گے تو کن شرائط پر۔

رائٹرز کے مطابق ٹین سینٹ جون میں بھی بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ سے تقریباً 4.66 ارب ڈالر جمع کر چکی ہے۔ تازہ مجوزہ اجراء اس سے ایک الگ ممکنہ لین دین ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ موجودہ اقدام مارکیٹ کے حالات، سرمایہ کی ضروریات اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے تابع ہے اور ابھی کوئی پابند کرنے والا حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔

طویل مدت کے قرضی بانڈز کمپنیوں کو سرمایہ کاری اور کاروباری منصوبہ بندی کے لیے ایک ذریعہ فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان کے ذریعے حاصل کیا گیا سرمایہ مستقبل میں سود اور اصل رقم کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی پیدا کرتا ہے۔ ٹین سینٹ کے اس منصوبے کی اصل مالی اہمیت کا اندازہ حتمی حجم، لاگت اور شرائط سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ فی الحال اعلان کو کمپنی کے فنڈنگ اختیارات بڑھانے کی تیاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔