پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملکی معیشت کے امکانات اور سرکاری اداروں کی نجکاری سے متعلق حکومتی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی شرح چار فیصد سے بڑھ سکتی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیش گوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتیں اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع پاکستان سمیت درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے دباؤ پیدا کر رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے زرعی شعبے کی نسبتاً بہتر کارکردگی کو ملکی اقتصادی استحکام کے اہم عوامل میں شمار کیا۔ ان کے مطابق ایندھن کی ضروریات کے لیے خریداری کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ خطے کی صورتحال نے مہنگائی اور اشیا کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔ ان کے بیان کردہ چار فیصد سے زائد شرح نمو کا تعلق مستقبل کی توقع سے ہے؛ اسے مالی سال کا حتمی حاصل شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حکومت نجکاری کے اگلے مرحلے میں پانچ سے چھ سرکاری اداروں کی فروخت یا متعلقہ کاروباری انتظامات سے ایک ارب ڈالر سے زائد وسائل جمع کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ اس منصوبہ بندی میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کے آپریشنز سے متعلق مواقع شامل ہیں۔ حکومتی موقف یہ ہے کہ نجی سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات سے مالی بوجھ کم کرنے اور خدمات میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم کسی مجوزہ سودے کی حتمی قیمت اور تکمیل اس کے قانونی و تجارتی مراحل پر منحصر ہوگی۔
یہ کوشش پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی سابقہ نجکاری کے بعد سرکاری اثاثوں کے بارے میں وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔ حکومت کے لیے نجکاری کی کامیابی کا ایک اہم امتحان یہ ہوگا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد کس حد تک حاصل کیا جاتا ہے اور مالی مفاد کے ساتھ عوامی خدمات کی ذمہ داریوں میں کس طرح توازن رکھا جاتا ہے۔
پاکستان ستمبر 2024 میں شروع ہونے والے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت اصلاحات پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس پروگرام میں ٹیکس وصولیوں کو بڑھانے اور زرعی آمدن سمیت مختلف شعبوں سے متعلق مالی اقدامات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ دس ارب ڈالر کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن انتظام پر بات چیت اور امریکی مالیاتی اداروں سے رابطوں کا بھی ذکر کیا۔ یہ مذاکرات ہیں، مکمل اور قابلِ استعمال فنڈنگ کا اعلان نہیں۔
اقتصادی پیش گوئی، نجکاری کے اہداف اور ممکنہ بیرونی تعاون کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ ان میں سے ہر پیش رفت کو عملی شکل دینے کے لیے مزید فیصلے، سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور متعلقہ اداروں کی منظوری درکار ہو سکتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں حکومتی کارکردگی کا اندازہ ان وعدوں کے حقیقی نتائج سے لگایا جا سکے گا۔
