اسلام آباد: پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی، یعنی اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران ملکی برآمدات میں نمایاں کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ خرم مختار نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ مغربی ممالک میں صارفین کی طلب کمزور ہونے، سمندری مال برداری کے اخراجات بڑھنے اور ملک کے اندر پیداواری لاگت میں اضافے نے برآمدی صنعت کی مسابقت متاثر کی ہے۔ یہ صنعت کی طرف سے پیش کردہ خدشہ ہے، سہ ماہی کے حتمی برآمدی اعدادوشمار نہیں۔

خرم مختار کے مطابق بین الاقوامی جہاز رانی کے اخراجات پہلے کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ سے ڈھائی گنا تک بڑھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں کے دباؤ اور بیرونی خریداروں کے محتاط رویے کی وجہ سے برآمدکنندگان کے منافع میں گنجائش محدود ہورہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایک مرتبہ ہاتھ سے نکلنے والی عالمی منڈیوں میں حصہ دوبارہ حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

ان کے بقول صورتحال کا اثر صرف تیار ملبوسات تک محدود نہیں بلکہ روئی کی جننگ، دھاگا سازی، بنائی، پراسیسنگ اور متعلقہ پیداواری مراحل تک پھیل رہا ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈیوٹی ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز کے تحت چھ سے آٹھ فیصد کی عارضی معاونت دی جائے اور مختلف مدوں میں واجب الادا ریفنڈز جلد ادا کیے جائیں۔ صنعتی بجلی کے نرخوں میں موجود کراس سبسڈی ختم کرنے کی تجویز بھی سامنے رکھی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے متعلق کہا کہ مالی سال 2027 کے بجٹ میں ساڑھے چار فیصد شرح کا اعلان ہونے کے باوجود اس کا عملی نفاذ نہیں ہوا۔ ان کے دعوے کے مطابق بعض بینک برآمدکنندگان سے ساڑھے پانچ سے ساڑھے آٹھ فیصد تک شرح وصول کررہے ہیں۔ اسی طرح مخصوص برآمدی شعبوں کو مالی سہولتوں کی تقسیم پر بھی انہوں نے اعتراض اٹھایا۔ یہ نکات متعلقہ صنعت کے نمائندے کے مؤقف کے طور پر سامنے آئے ہیں؛ ان کا آزادانہ مالی آڈٹ اس خبر کا حصہ نہیں۔

خرم مختار نے جننگ، سائزنگ، ویونگ اور پراسیسنگ میں جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کے لیے مجموعی طور پر 140 ارب روپے کے ہدفی مالی پیکیج کی تجویز دی۔ انہوں نے دس سالہ برآمدی حکمت عملی، صنعت اور اسٹیٹ بینک کے درمیان مشاورت اور مؤثر مالی سہولتوں کو اہم قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے لیے اصل سوال یہ ہوگا کہ فوری ریلیف کی درخواستوں، مالی وسائل اور طویل المدتی صنعتی مسابقت میں کس طرح توازن قائم کیا جائے۔

یہ تفصیلات روزنامہ ڈان میں 12 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ اور ایسوسی ایشن کے بیان پر مبنی ہیں۔