پیرس: فرانس میں احتجاجی مظاہروں کی نئی لہر کے آغاز پر پولیس نے بعض مقامات پر آنسو گیس استعمال کی، جبکہ حکام نے ممکنہ بدامنی اور گزشتہ ہفتے کے تشدد کے تناظر میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق ہفتے کے اختتام پر تقریباً 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جانے تھے، جو گزشتہ احتجاجی مرحلے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
مظاہروں کے آغاز سے قبل پیرس اور دیگر شہروں میں دکانداروں اور کاروباری اداروں نے ممکنہ توڑ پھوڑ سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کیے۔ دارالحکومت کے معروف لوور اور میوزے دورسے عجائب گھروں کو بھی بند رکھا گیا، جس سے احتجاج کے شہری سرگرمیوں اور سیاحت پر فوری اثرات نمایاں ہوئے۔
پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال مظاہرین کو منتشر کرنے اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کی کارروائیوں کے دوران رپورٹ ہوا۔ تاہم دستیاب ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر پورے ملک میں مظاہروں کے مجموعی حجم، گرفتاریوں یا زخمیوں کی حتمی تعداد کا تعین ابھی ممکن نہیں۔ اس لیے ابتدائی جھڑپوں کو پورے احتجاجی دن کی حتمی صورتحال نہیں سمجھا جا سکتا۔
حکام نے اس مرتبہ سکیورٹی فورسز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ گزشتہ ہفتے ہونے والے تشدد اور پولیس کی تیاری و انٹیلی جنس انتظامات پر اٹھنے والے سوالات کے بعد کیا۔ تقریباً 20 فیصد اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد بڑے اجتماعات، اہم سرکاری و تجارتی مقامات اور شہری مراکز میں صورتحال کو قابو میں رکھنا بتایا گیا۔
فرانس میں احتجاج کی موجودہ لہر نے حکومت کے لیے امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے احتجاج کے حق کے درمیان توازن کا چیلنج دوبارہ نمایاں کیا ہے۔ پولیس کارروائیوں اور مظاہرین کے رویے دونوں پر عوامی اور سیاسی توجہ مرکوز ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پچھلے مظاہروں کے دوران تشدد نے کاروبار، نقل و حرکت اور شہری سہولیات کو متاثر کیا تھا۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق حکام اور کاروباری حلقے پورے ہفتہ وار احتجاج کے دوران مزید واقعات کے امکان کے لیے تیار رہے۔ صورتحال بدلنے کے باعث کسی بڑے سیاسی نتیجے، ملک گیر ہلاکتوں یا احتجاج کے خاتمے سے متعلق کوئی حتمی دعویٰ اس مرحلے پر نہیں کیا جا سکتا۔ اہم تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ نئے مظاہرے شروع ہوئے، پولیس نے آنسو گیس استعمال کی، سکیورٹی نفری میں نمایاں اضافہ کیا گیا اور پیرس کے دو بڑے عجائب گھر احتیاطاً بند رکھے گئے۔
