پیرس: فرانس نے افغانستان کے بعض شہریوں کی ملک بدری اور براہ راست واپسی کے انتظامات کے لیے طالبان حکام کے ساتھ تکنیکی بات چیت شروع کردی ہے۔ فرانسیسی سفارتی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ رابطوں کا مقصد ایسے افغان شہریوں کی واپسی میں سہولت پیدا کرنا ہے جو فرانس میں غیر قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور جنہیں حکام امن عامہ کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
فرانس نے اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے کابل کی موجودہ حکومت کے ساتھ رسمی سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے۔ کابل میں فرانسیسی سفارت خانہ بھی بند ہے۔ اس پس منظر میں تازہ رابطے معمول کے سفارتی تعلقات کی بحالی کے بجائے مخصوص انتظامی مسئلے سے متعلق مذاکرات ہیں۔
سفارتی ذریعے کے مطابق فرانس دیگر یورپی ملکوں کی طرح افغان شہریوں کی واپسی کے عملی طریقوں پر بات کر رہا ہے۔ جرمنی، بیلجیئم اور سویڈن سمیت کئی یورپی ممالک خاص طور پر عدالتی سزائیں پانے والے افغان شہریوں کی واپسی کا عمل تیز کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم فرانسیسی حکام نے ایسے افراد کی کوئی حتمی تعداد جاری نہیں کی جنہیں اس انتظام کے تحت واپس بھیجا جاسکتا ہے۔ معاملے سے واقف ایک دوسرے ذریعے نے ممکنہ تعداد سینکڑوں میں بتائی، لیکن یہ غیر حتمی اندازہ ہے۔
فرانسیسی وزارت خارجہ نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ کیا طالبان کے نمائندوں کو طریقہ کار آگے بڑھانے کے لیے فرانس آنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس لیے مذاکرات کی آئندہ شکل، ممکنہ دوروں اور واپسی کے باقاعدہ شیڈول کے بارے میں ابھی حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
فرانسیسی سفارتی ذریعے نے زور دیا کہ تکنیکی مذاکرات سے افغانستان کے بارے میں فرانس کی بنیادی پالیسی تبدیل نہیں ہوتی۔ اس کے مطابق پیرس افغان آبادی، بالخصوص خواتین کی حمایت جاری رکھے گا۔ طالبان کی حکومت کو یورپی یونین نے باضابطہ تسلیم نہیں کیا، جبکہ خواتین اور لڑکیوں پر تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت سے متعلق پابندیاں بین الاقوامی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
اس سے پہلے طالبان حکام اور یورپی قانون سازوں کے بعض رابطوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور یورپی پارلیمنٹ کے کچھ حلقوں نے تنقید کی تھی۔ موجودہ معاملے میں بھی ملک بدری کے انتظامات اور انسانی حقوق کے تحفظ کے درمیان توازن اہم سوال ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت مذاکرات کے آغاز تک محدود ہے؛ کسی بڑے پیمانے کی واپسی یا فرانس کی جانب سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

