برلن: جرمنی کے سابق انٹیلی جنس سربراہ آؤگسٹ ہاننگ کی حالیہ گرفتاری کے بعد مختلف یورپی خفیہ اداروں نے اپنے مشترکہ معلوماتی نظام کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ آٹھ اکتوبر کو رائٹرز نے انٹیلی جنس اہلکاروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ تشویش کا بنیادی سبب یہ سوال ہے کہ جرمن ادارے کو ماضی میں دی جانے والی حساس معلومات کہیں غیر مجاز لوگوں تک تو نہیں پہنچیں۔ اس مرحلے پر ممکنہ معلومات کے افشا ہونے کی مکمل نوعیت طے نہیں ہوئی۔
ہاننگ جرمنی کے غیر ملکی انٹیلی جنس ادارے بی این ڈی کے سابق سربراہ رہے ہیں۔ انہیں جاسوسی اور غداری کے شبہے میں گرفتار کیا گیا، جبکہ ان کے سابق چیف آف اسٹاف کو بھی حراست میں لیا گیا۔ رائٹرز کے مطابق ایک سابق اعلیٰ عہدیدار، جسے رپورٹ میں مانفریڈ ڈی کے نام سے شناخت کیا گیا، پر الزام ہے کہ اس نے ہاننگ کو تقریباً دو ہزار دستاویزات فراہم کیں جن میں بعض کو خفیہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ استغاثے اور تفتیش سے متعلق الزامات ہیں، حتمی عدالتی فیصلے نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہاننگ نے 2005 میں بی این ڈی چھوڑ دیا تھا اور بعد میں نجی مشاورت کے شعبے میں سرگرم ہوئے۔ ان پر شبہ ہے کہ انہوں نے خفیہ دستاویزات کے حصول کے لیے سابق اہلکار کو ادائیگی کرنے پر اتفاق کیا اور ممکنہ طور پر حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر غیر ملکی انٹیلی جنس عہدیداروں کو بریفنگ دی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ کون سی معلومات کس شخص تک پہنچیں اور آیا کسی غیر ملکی ادارے کو واقعی ایسی معلومات دی گئیں جن سے قومی سلامتی متاثر ہوئی۔
رائٹرز نے ایک یورپی انٹیلی جنس عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ بعض ادارے جرمنی کے ساتھ پہلے شیئر کی گئی معلومات کے متعلق خطرات کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک اور اتحادی اہلکار نے کہا کہ ممکنہ نقصان کا تعین کیا جا رہا ہے۔ ایک مغربی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ مواد میں امریکی سی آئی اے سے آنے والی معلومات بھی شامل تھیں، مگر سی آئی اے نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یہ دعویٰ آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
جرمن وزارت داخلہ کے مطابق ہاننگ کے سرکاری ملازمت کے دور میں رازداری کے ضابطوں کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی بھی جانچ ہو رہی ہے۔ آذربائیجان نے ہاننگ اور اپنے حکام کے درمیان رابطوں سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب ہاننگ کے ایک وکیل نے جرمن جریدے ڈیر اشپیگل سے گفتگو میں اپنے مؤکل کے خلاف کارروائی کو غلط قرار دیا اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام کی نفی کی۔
اس کیس سے ریٹائرڈ اعلیٰ سکیورٹی اہلکاروں کی نجی شعبے میں ملازمت، حساس دستاویزات تک رسائی اور انٹیلی جنس تعاون کے تحفظ جیسے مسائل پر نئی بحث شروع ہوئی ہے۔ جرمن پارلیمانی نگرانی سے وابستہ عہدیداروں نے سخت اصولوں کی ضرورت کا ذکر کیا ہے۔ تاہم تحقیقات جاری ہونے کے باعث کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری یا مخصوص ملکی نقصان کا نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
