برلن: جرمنی کی جنوبی ریاست باویریا میں نازی دور سے منسلک تاریخی پہاڑی عمارت کیلشٹائن ہاؤس، جسے ’ایگلز نیسٹ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، شدید آگ کی لپیٹ میں آگئی۔ جرمن پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ایک مشتبہ شخص کو عارضی طور پر حراست میں لیا گیا ہے، تاہم اس شخص کے آگ لگنے سے ممکنہ تعلق اور واقعے کی وجہ کے بارے میں تفتیش ابھی جاری ہے۔

یہ عمارت برشٹس گاڈن کے قریب اوبرسالزبرگ کی بلند چوٹی پر واقع ہے اور اس تک رسائی جغرافیائی طور پر مشکل ہے۔ پولیس کے مطابق تقریباً 200 فائر فائٹرز اور ہنگامی عملے کو آگ بجھانے کے لیے تعینات کیا گیا۔ ریسکیو اہلکار جب مقام کے قریب پہنچے تو عمارت مکمل طور پر شعلوں میں گھری ہوئی تھی۔ کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

پولیس ترجمان لیزا مائر کے مطابق عمارت تقریباً 1,834 میٹر کی بلندی پر واقع ہونے کے باعث فائر فائٹرز کو کارروائی میں غیر معمولی مشکلات پیش آئیں اور بعض مقامات تک پہنچنے کے لیے بھاری breathing apparatus درکار تھا۔ حکام کو جمعہ کی شام تقریباً 9 بج کر 50 منٹ پر اس وقت اطلاع ملی جب دھوئیں کا الارم فعال ہوا۔

پولیس نے کہا ہے کہ فوجداری نوعیت کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایک جرمن اخبار نے آتش زنی کے شبہے اور ایک موٹر سائیکل سوار کی گرفتاری کی اطلاع دی، لیکن حکام نے فوری طور پر آگ کی حتمی وجہ یا زیر حراست شخص کے کردار کی تصدیق نہیں کی۔ اس لیے واقعے کو فی الحال ثابت شدہ آتش زنی قرار نہیں دیا جاسکتا اور زیر حراست شخص کو بھی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے مجرم نہیں سمجھا جاسکتا۔

کیلشٹائن ہاؤس 1930 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا اور نازی حکومت کی تاریخی میراث سے وابستہ ہے۔ عمارت دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی باقی رہی اور بعد میں اسے تاریخی آگاہی اور سیاحتی مقام کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ اس مقام کی تاریخی حساسیت کے باعث آگ نے جرمنی اور بین الاقوامی میڈیا میں فوری توجہ حاصل کی ہے۔

حکام کی اولین ترجیح آگ پر مکمل قابو پانا، عمارت کی ساختی حالت کا جائزہ لینا اور یہ طے کرنا ہے کہ آگ حادثاتی تھی یا کسی دانستہ عمل کا نتیجہ۔ تفتیشی اداروں نے ابھی کسی ممکنہ محرک کا اعلان نہیں کیا۔ مزید فرانزک معائنے اور پولیس تحقیقات کے بعد ہی نقصان کی مکمل نوعیت اور واقعے کے اسباب واضح ہونے کی توقع ہے۔