عالمی جنگلات کے تحفظ سے متعلق نئی سالانہ جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران دنیا میں مستقل طور پر ختم ہونے والے جنگلات کے رقبے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی آئی، لیکن افریقہ کے کانگو بیسن میں صورت حال مزید خراب ہوئی۔ ڈان کی 15 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق فاریسٹ ڈیکلریشن اسیسمنٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال تقریباً 70 لاکھ ہیکٹر جنگلات مستقل طور پر تباہ ہوئے۔ یہ رقبہ تقریباً آئرلینڈ کے حجم کے برابر ہے اور پچھلے سال کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہے۔

رپورٹ مختلف تحقیقی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے اشتراک سے تیار کی گئی۔ اس کے مصنفین نے خبردار کیا کہ ایک سال کی کمی کو مستقل رجحان سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ دنیا نے 2021 میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کے موقع پر 2030 تک جنگلات کی کٹائی ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن موجودہ رفتار اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ جائزے کے مطابق اس ہدف کے قریب پہنچنے کے لیے سالانہ جنگلات کے نقصان میں تقریباً دس لاکھ ہیکٹر کی مزید کمی درکار ہوگی۔

رپورٹ کی شریک مصنفہ ایرن میٹسن نے اس پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ فی الحال اسے نئے مستقل راستے کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ جنگلات کو زرعی زمین میں تبدیل کرنا اور معدنی وسائل نکالنے کے لیے صفائی کرنا تباہی کی اہم وجوہ میں شامل ہیں۔ اس لیے محض ایک خطے میں بہتری پوری دنیا کے خطرات کو ختم نہیں کرتی۔

لاطینی امریکا میں 2025 کے دوران جنگلات کی کٹائی میں نمایاں کمی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق اس خطے میں نقصان تقریباً 33 فیصد کم ہوا۔ محققین نے برازیل میں جنگلات کے تحفظ کے منصوبے اور ایمیزون میں نگرانی اور قانون کے نفاذ میں بہتری کو اس پیش رفت کے اہم عوامل میں شمار کیا۔ دوسری جانب افریقہ کے کانگو بیسن میں تقریباً 24 لاکھ ہیکٹر بارانی جنگلات کا نقصان ریکارڈ ہوا، جو پہلی بار ایمیزون میں نقصان کے قریب پہنچ گیا۔

کانگو بیسن کا خطہ حیاتیاتی تنوع اور عالمی آب و ہوا کے لیے اہم ہے۔ وہاں جنگلات کا مسلسل کم ہونا مقامی آبادی، جنگلی حیات اور کاربن کے قدرتی ذخائر کے لیے سنگین مسئلہ ہے۔ ماہرین کے مطابق 2030 کے عالمی وعدے کو پورا کرنے کے لیے مستقل پالیسیوں، بہتر نگرانی اور زمین کے استعمال سے متعلق فیصلوں میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ رپورٹ ایک جانب عالمی سطح پر جزوی بہتری ظاہر کرتی ہے تو دوسری جانب خبردار کرتی ہے کہ جنگلات کے تحفظ کی کوششیں تمام اہم خطوں میں یکساں کامیاب نہیں ہو رہیں۔