سنگاپور: دنیا میں نئی قابل تجدید توانائی کی تنصیب 2026 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہنے کا امکان ہے، جو پانچ برس میں پہلی سالانہ سست روی ہوگی۔ بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی، آئرینا، کے ڈائریکٹر جنرل فرانسسکو لا کیمرا نے رائٹرز کو بتایا کہ بنیادی مسئلہ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی تیزی سے بڑھتی صلاحیت اور اسے صارفین تک پہنچانے والے ترسیلی و تقسیمی نیٹ ورکس کے درمیان بڑھتا فرق ہے۔

آئرینا کے اعداد کے مطابق 2025 میں ہائیڈرو پاور سمیت صاف توانائی کی نئی تنصیبات ریکارڈ 692 گیگاواٹ، یا 15.5 فیصد، بڑھ کر مجموعی طور پر 5,149 گیگاواٹ تک پہنچ گئی تھیں۔ یہ دنیا کی بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت کا تقریباً نصف بنتی ہے۔ 2021 کے بعد ہر سال شمسی اور ہوا کی نئی صلاحیت میں تیز اضافہ ہوا تھا، لیکن اب کئی ممالک کے گرڈ اس رفتار کے مطابق توسیع نہیں کر پا رہے۔

لا کیمرا کے مطابق چین میں قابل تجدید توانائی کی تنصیب کی رفتار سست ہوئی ہے کیونکہ گرڈ کی حدود کے باعث بعض اوقات دستیاب صاف بجلی قبول نہیں کی جا سکتی۔ رائٹرز کے مطابق چین نے 2026 کی پہلی ششماہی میں اتنی قابل تجدید بجلی استعمال نہیں کی جتنی میکسیکو کی تقریباً ایک سال کی بجلی کی ضرورت کے برابر تھی۔ آسٹریلیا اور جاپان جیسے ممالک میں بھی نیٹ ورک کی صلاحیت تیزی سے بڑھتی نئی پیداوار کے ساتھ قدم ملانے میں مشکلات کا شکار ہے۔

آئرینا سربراہ نے کہا کہ دنیا کے دیگر حصوں میں ہونے والا اضافہ چین کی سست روی کی مکمل تلافی کرنے کا امکان نہیں رکھتا۔ انہوں نے 2026 میں شامل ہونے والی نئی عالمی صلاحیت کا کوئی حتمی عدد نہیں دیا، اس لیے موجودہ بیان سمت کی پیش گوئی ہے، مکمل سال کے حتمی اعداد نہیں۔ انہوں نے تجارتی رکاوٹوں کو بھی صاف توانائی کی توسیع کے لیے ایک مسئلہ قرار دیا۔

قابل تجدید توانائی میں مسلسل اضافہ عالمی اخراج کم کرنے، توانائی کی قیمتوں کو زیادہ مستحکم بنانے اور درآمدی ایندھن پر انحصار گھٹانے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی حالیہ رپورٹ میں عالمی حدت محدود کرنے کے لیے فوری اور سخت اخراج میں کمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ آئرینا کی تازہ تشخیص اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز لگانا کافی نہیں ہوگا؛ بجلی کے گرڈ، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور سرحد پار ترسیل میں بھی متوازی سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔