جنیوا: اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم نے کہا ہے کہ 2025 میں فضا میں تین بڑی گرین ہاؤس گیسوں — کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ — کی مقدار نئی ریکارڈ سطحوں تک پہنچ گئی۔ تنظیم کے مطابق ان گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار آنے والے برسوں اور دہائیوں میں زمین کے درجہ حرارت اور موسمیاتی خطرات پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے 22ویں سالانہ گرین ہاؤس گیس بلیٹن کے مطابق 2025 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی عالمی اوسط مقدار 426.8 پارٹس فی ملین ریکارڈ کی گئی۔ میتھین 1,948 پارٹس فی بلین اور نائٹرس آکسائیڈ 339.1 پارٹس فی بلین تک پہنچ گئی۔ یہ سطحیں صنعتی دور سے پہلے، یعنی 1750 سے قبل، کی مقدار کے مقابلے میں بالترتیب 153 فیصد، 267 فیصد اور 126 فیصد ہیں۔

تنظیم نے واضح کیا کہ بلیٹن سالانہ اخراج کے بجائے فضا میں موجود گیسوں کی مجموعی مقدار کو ناپتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ طویل عرصے تک فضا میں رہتی ہے اور بڑی گرین ہاؤس گیسوں سے پیدا ہونے والے حدت کے اثر میں اس کا حصہ تقریباً دو تہائی بتایا گیا ہے۔ سالانہ خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تقریباً نصف فضا میں رہتا ہے جبکہ باقی حصہ زمین اور سمندر جذب کرتے ہیں۔

2024 سے 2025 کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ کی اوسط مقدار میں 2.8 پی پی ایم اضافہ ہوا۔ یہ 2023 سے 2024 کے 3.6 پی پی ایم کے غیر معمولی اضافے سے کم تھا، لیکن گزشتہ دہائی کی 2.6 پی پی ایم اوسط شرح سے پھر بھی زیادہ رہا۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے ماہرین نے اس کمی کو زمینی کاربن جذب کرنے والے نظام کی بحالی اور 2025 میں جنگلاتی آگ سے نسبتاً کم کاربن اخراج سے جوڑا۔

رپورٹ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں نومبر میں ہونے والی کوپ 31 موسمیاتی کانفرنس سے قبل سامنے آئی ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ فوسل ایندھن کے مسلسل استعمال اور موسمیاتی عوامل کے باعث 2026 میں بھی گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں توانائی کے نظام کی تبدیلی کے دوران ہائیڈروجن اور سلفر ہیکسا فلورائیڈ جیسی کم مقدار مگر طاقتور گیسوں کی نگرانی پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت بتائی گئی ہے۔