لاہور: پنجاب میں سموگ کا سلسلہ برقرار رہنے کے دوران لاہور منگل کو فضائی آلودگی کے اعتبار سے دنیا کے بڑے شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق شہر میں ہوا کا معیار مسلسل تشویش ناک سطح پر رہا، جس سے بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے صحت کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
اکتوبر اور نومبر میں پنجاب کے میدانی علاقوں میں کم ہوا، درجہ حرارت میں تبدیلی، گاڑیوں اور صنعتوں کے اخراج، تعمیراتی گرد اور زرعی باقیات جلانے سمیت متعدد عوامل سموگ کو شدید بنا سکتے ہیں۔ آلودہ ذرات خصوصاً PM2.5 پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں اور طویل یا شدید نمائش صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
لاہور میں فضائی آلودگی کا مسئلہ صرف ایک دن کی عالمی درجہ بندی تک محدود نہیں۔ موسم سرما کے آغاز کے ساتھ شہر کئی برسوں سے سموگ کے شدید دور دیکھتا رہا ہے، جس کے دوران اسکولوں، ٹریفک، تعمیراتی سرگرمیوں اور صنعتی اخراج سے متعلق انتظامی اقدامات زیر غور آتے ہیں۔ کسی ایک عالمی رینکنگ میں شہر کی پوزیشن دن اور وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے، اس لیے اصل توجہ مسلسل بلند آلودگی کی سطح پر رہنی چاہیے۔
صحت کے ماہرین عام طور پر شدید آلودگی کے دنوں میں غیر ضروری بیرونی سرگرمی محدود کرنے، حساس افراد کو خاص احتیاط برتنے اور مقامی سرکاری صحت و ماحولیات کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ماسک اور گھر کے اندر ہوا صاف رکھنے کے اقدامات نمائش کم کر سکتے ہیں، لیکن شہر کی مجموعی آلودگی کا پائیدار حل اخراج کے ذرائع کو کم کرنے سے وابستہ ہے۔
پنجاب حکومت حالیہ برسوں میں گاڑیوں کی جانچ، اینٹوں کے بھٹوں کی نگرانی، فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف کارروائی اور صنعتی اخراج پر کنٹرول جیسے اقدامات کرتی رہی ہے۔ اس کے باوجود سموگ کی شدت ظاہر کرتی ہے کہ فضائی آلودگی ایک بین الاضلاعی اور طویل مدتی انتظامی مسئلہ ہے جس کے لیے نقل و حمل، توانائی، صنعت اور زراعت کی پالیسیوں میں مربوط عمل درکار ہے۔
منگل کی صورتحال میں فوری تشویش شہریوں کی صحت اور روزمرہ سرگرمیوں پر اثرات ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہوا، بارش اور درجہ حرارت کے حالات آلودگی کی شدت کو بدل سکتے ہیں، جبکہ سرکاری نگرانی سے یہ واضح ہوگا کہ سموگ کے خلاف نافذ اقدامات کس حد تک مؤثر رہتے ہیں۔
