اسلام آباد: پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے معاشی اثرات سے نمٹنے اور سبز سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے لیے ایک نئے کلائمیٹ فنانس فنڈ کے قیام پر کام کر رہا ہے، جس کے ذریعے سرکاری، نجی اور بین الاقوامی ذرائع سے ایک ارب ڈالر تک سرمایہ متحرک کرنے کا ہدف زیر غور ہے۔ مجوزہ فنڈ کا مقصد ایسے منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنا ہے جو موسمیاتی موافقت، صاف توانائی، پانی کے بہتر انتظام اور قدرتی آفات کے مقابلے میں بنیادی ڈھانچے کی لچک بڑھا سکیں۔

پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جو عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج میں نسبتاً محدود حصہ رکھتے ہیں لیکن سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی اور غیر معمولی بارشوں جیسے موسمیاتی خطرات سے بھاری اقتصادی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت طویل عرصے سے بین الاقوامی موسمیاتی مالیات، رعایتی قرضوں، گرانٹس اور نجی سرمایہ کاری تک بہتر رسائی کی ضرورت پر زور دیتی رہی ہے۔ نئے فنڈ کا تصور مختلف مالی ذرائع کو ایک ایسے پلیٹ فارم میں جوڑنے کی کوشش ہے جو قابل عمل منصوبوں کو سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کر سکے۔

مجوزہ ڈھانچے میں سرکاری وسائل کو نجی سرمائے کے لیے رسک کم کرنے، ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے یا مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس نوعیت کے blended finance ماڈل دنیا کے مختلف ممالک میں ان منصوبوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں جہاں ابتدائی خطرہ زیادہ ہو لیکن طویل مدتی معاشی اور ماحولیاتی فائدہ نمایاں ہو۔ پاکستان کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ منصوبوں کے انتخاب، مالی شفافیت، نتائج کی پیمائش اور سرمایہ کاروں کے اخراج کے اصول واضح رکھے جائیں۔

فنڈ سے ممکنہ طور پر قابل تجدید توانائی، شہری سیلابی تحفظ، پانی کی بچت، زرعی موافقت، جنگلات، توانائی کی کارکردگی اور موسمیاتی لچک رکھنے والے انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں منصوبے تیار کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ایک ارب ڈالر کا ہدف متحرک کیے جانے والے ممکنہ سرمائے کی سطح ہے، اسے پہلے سے حاصل شدہ رقم یا حتمی مالی وعدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اصل سرمایہ کاری کا انحصار فنڈ کے قانونی ڈھانچے، منصوبوں کے معیار اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرکت پر ہوگا۔

پاکستان کے لیے موسمیاتی مالیات کا مسئلہ صرف سرمایہ حاصل کرنے تک محدود نہیں۔ عالمی ادارے قابل پیمائش نتائج، شفاف خریداری، ماحولیاتی و سماجی تحفظ اور منصوبوں کی مسلسل نگرانی پر بھی زور دیتے ہیں۔ اس لیے مجوزہ فنڈ کی کامیابی اس بات سے جڑی ہوگی کہ حکومت کتنی تیزی سے سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں کی پائپ لائن تیار کرتی ہے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ان کی نگرانی اور رپورٹنگ کا نظام قائم کرتی ہے۔