لاہور: پنجاب حکومت نے سموگ اور فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر صوبے میں آلودگی پھیلانے والے ذرائع کی نگرانی اور ماحولیاتی ضوابط کے نفاذ کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق لاہور سمیت زیادہ متاثرہ شہری علاقوں میں گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹوں اور دیگر آلودگی پیدا کرنے والی سرگرمیوں پر توجہ بڑھائی جا رہی ہے تاکہ موسم سرما کے دوران فضائی معیار میں شدید بگاڑ کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
سموگ پنجاب کے بڑے شہروں میں ہر سال موسم خزاں اور سردیوں کے دوران صحت اور روزمرہ زندگی کا اہم مسئلہ بن جاتی ہے۔ کم ہوا، درجہ حرارت میں تبدیلی اور فضا میں آلودہ ذرات کے جمع ہونے سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ مقامی اخراج کے علاوہ خطے میں فصلوں کی باقیات جلانے اور سرحد پار آلودگی جیسے عوامل بھی فضائی معیار پر اثر انداز ہوتے ہیں، تاہم ہر عامل کا حصہ موسم اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔
صوبائی حکام نے ماحولیاتی قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے صنعتی یونٹس اور اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف کارروائی، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی جانچ اور شہری علاقوں میں گردوغبار اور کچرا جلانے جیسی سرگرمیوں کی نگرانی پر زور دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سموگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف ہنگامی پابندیوں کے بجائے اخراج کے مستقل ذرائع پر مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
فضائی آلودگی صحت عامہ کے لیے خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے زیادہ خطرہ پیدا کرتی ہے۔ باریک ذرات طویل عرصے تک فضا میں رہ سکتے ہیں اور سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے حکام شہریوں کو فضائی معیار کی صورتحال پر نظر رکھنے، غیر ضروری بیرونی سرگرمی محدود کرنے اور شدید آلودگی کے دوران صحت سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
سموگ کے خلاف اقدامات کا مؤثر ہونا صرف جرمانوں یا عارضی بندشوں سے نہیں بلکہ مسلسل اخراجی نگرانی، صاف ایندھن، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، صنعتی ٹیکنالوجی میں بہتری اور زرعی باقیات کے متبادل انتظام سے بھی وابستہ ہے۔ پنجاب حکومت نے حالیہ برسوں میں مختلف اینٹی سموگ پروگرام شروع کیے ہیں، مگر ان کے نتائج کا درست جائزہ طویل مدتی فضائی معیار کے اعداد و شمار سے ہی ممکن ہوگا۔
موجودہ کارروائی سموگ سیزن کے دوران نفاذ سخت کرنے کا حصہ ہے۔ فضائی معیار روزانہ موسمی حالات کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے، اس لیے کسی ایک دن کی ریڈنگ کو پورے سیزن کا نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ مستقل بہتری کے لیے اخراج کے بڑے ذرائع میں قابل پیمائش کمی اور پالیسی اقدامات کے مسلسل نفاذ کی ضرورت رہے گی۔

