لندن: عالمی منڈی میں سونے کی قیمت جمعرات کو ایک فیصد سے زیادہ کم ہوگئی کیونکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے تازہ پالیسی اشاروں اور اہم امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار کے انتظار میں محتاط رہے۔ اسپاٹ گولڈ 1.1 فیصد کمی کے بعد تقریباً 4,024.22 ڈالر فی اونس پر آگیا، جبکہ دسمبر کے امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

فیڈرل ریزرو نے اپنی بینچ مارک شرح سود 3.75 سے 4.00 فیصد کی حد میں برقرار رکھی اور اشارہ دیا کہ اگلا قدم اٹھانے سے پہلے مزید مہنگائی ڈیٹا دیکھا جائے گا۔ چیئرمین کیون وارش کے بیانات کے بعد مارکیٹ میں دسمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکان کی قیمت بندی نمایاں رہی۔ بلند شرح سود عام طور پر سونے کے لیے دباؤ کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ سونا خود کوئی سودی آمدن نہیں دیتا اور بلند شرحوں کے ماحول میں دیگر اثاثے نسبتاً پرکشش ہوسکتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچرز، یعنی پی سی ای، مہنگائی کے اعداد و شمار پر بھی مرکوز ہے۔ یہ ان اشاریوں میں شامل ہے جنہیں امریکی مرکزی بینک قیمتوں کے دباؤ کا اندازہ لگانے کے لیے قریب سے دیکھتا ہے۔ سونا مسلسل دوسرے ماہ کمی کی جانب بڑھ رہا تھا، اگرچہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی خطرات محفوظ سرمایہ سمجھے جانے والے اثاثوں کی طلب کو سہارا دے سکتے ہیں۔

دوسری جانب چین کی ہانگ کانگ کے راستے خالص سونے کی درآمدات ستمبر میں 28 فیصد سے زیادہ بڑھ کر پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچیں۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا؛ چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتیں کم ہوئیں۔ آنے والے دنوں میں امریکی مہنگائی، شرح سود کی توقعات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال قیمتی دھاتوں کی سمت کے اہم عوامل رہیں گے، کیونکہ ان میں تبدیلی ڈالر، بانڈ ییلڈز اور محفوظ سرمایہ کاری کی طلب کو براہ راست متاثر کرسکتی ہے۔