اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مجوزہ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات میں اپوزیشن کی نمائندگی کے لیے باضابطہ طور پر نام طلب کر لیے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر سے رابطہ کرکے اپوزیشن ارکان کے نام جمع کرانے کی درخواست کی، تاہم اپوزیشن نے موجودہ سیاسی حالات میں کمیٹی میں شمولیت کو اپنے مطالبات سے مشروط قرار دیا ہے۔

عامر ڈوگر نے رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اس دعوت پر مشاورت کرے گی اور حتمی فیصلہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی جانب سے سامنے آئے گا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج، صوبائی سیاسی قیادت کے خلاف اقدامات اور گزشتہ عام انتخابات سے متعلق پی ٹی آئی کے اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں حکومت کے ساتھ کمیٹی میں بیٹھنے پر سنجیدہ تحفظات موجود ہیں۔ یہ نکات اپوزیشن کے سیاسی مؤقف اور الزامات ہیں۔

پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بات چیت سنجیدہ اور مخلصانہ انداز میں ہو تو اپوزیشن اصولی طور پر کمیٹی کی مخالفت نہیں کرے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ کمیٹی کا مقصد انتخابی عمل کو منصفانہ، شفاف اور تمام فریقوں کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے اصلاحات پر کام کرنا ہے۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق کمیٹی میں نمائندگی قومی اسمبلی میں جماعتوں کی عددی قوت کی بنیاد پر ہوگی اور ہر 16 ارکان پر ایک نشست کا فارمولا تجویز کیا گیا ہے۔ اس حساب سے مسلم لیگ ن کو نو، پیپلز پارٹی کو پانچ اور ایم کیو ایم پاکستان کو ایک نشست ملنے کی توقع ہے۔ چھوٹی حکومتی اتحادی جماعتوں کے لیے مسلم لیگ ن اپنے کوٹے سے نشستیں مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پیپلز پارٹی پہلے ہی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے کر چکی ہے۔ پارٹی رہنما نوید قمر نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں تاخیر پر بھی اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آئینی مشاورت آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت ختم ہونے کے باوجود آئینی انتظام کے تحت ان کا عہدے پر برقرار رہنا نئے تقرر تک جاری ہے۔

انتخابی اصلاحات کی مجوزہ کمیٹی کی تشکیل ایسے وقت ہو رہی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتخابی عمل، خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور آئینی عہدوں پر تقرریوں کے معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ کمیٹی عملی طور پر کب تشکیل پاتی ہے اور اپوزیشن اس میں شامل ہوتی ہے یا نہیں، اس کا انحصار آئندہ سیاسی مشاورت اور جماعتوں کی نامزدگیوں پر ہوگا۔