اسلام آباد: جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی سے متعلق مطالبے پر غور کے لیے تین مزید دن مانگے ہیں اور پارٹی سے درخواست کی ہے کہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی حتمی کال پیر تک مؤخر رکھی جائے۔ انہوں نے یہ بات پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ دوسرے دور کے بعد پریس کانفرنس میں کہی۔
جیو نیوز کے مطابق جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف دینا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ مذاکرات میں پارٹی کے چھ مطالبات زیر بحث آئے، تاہم ان کے بقول بعض معاملات میں انتظامی اور بیوروکریٹک رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے نتائج یا پیٹرولیم لیوی میں کسی مخصوص کمی کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔
جماعت اسلامی ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے دے رہی ہے اور اس نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات پر قابل قبول پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لیاقت بلوچ کے مطابق پارٹی نے حکومتی درخواست پر مختصر مہلت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
پیٹرولیم لیوی کا معاملہ حالیہ دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ عالمی تیل منڈی میں تیزی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ نظرثانی کے نئے نظام کے تحت تبدیل ہو رہی ہیں۔ اس پس منظر میں لیوی میں کمی کا مطالبہ صارف قیمتوں اور حکومتی محصولات دونوں سے جڑا ہوا ہے، کیونکہ کسی بھی ریلیف کے مالی اثرات کا فیصلہ وفاقی حکومت کو بجٹ اور آمدن کی صورتحال دیکھتے ہوئے کرنا ہوگا۔
لیاقت بلوچ نے یہ بھی کہا کہ دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے جماعت اسلامی کی مہم کے لیے حمایت سامنے آئی ہے۔ تاہم احتجاج کے اگلے مرحلے، لانگ مارچ کی تاریخ یا حکومت کے حتمی جواب کے بارے میں فیصلہ تین روزہ مہلت کے بعد متوقع ہے۔ اس وقت مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے یا لیوی واپس لینے کی تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے معاملہ حکومتی فیصلے کا منتظر ہے۔




