اسلام آباد: وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ موجودہ سیاسی کشیدگی پر بات چیت کے لیے چھ رکنی مشترکہ وفد تشکیل دیا ہے، جس کی پی ٹی آئی قیادت سے 2 اکتوبر کو ملاقات طے کی گئی ہے۔ ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹوں کے مطابق یہ پیش رفت صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں ملاقات کے بعد سامنے آئی، جہاں ملک کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا۔
مذاکرات کا پس منظر پی ٹی آئی کا 4 اکتوبر کو اسلام آباد مارچ ہے، جس کے باعث وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ بڑھا ہوا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حکومت اور پیپلز پارٹی کی جانب سے قائم کردہ وفد کو پی ٹی آئی قیادت سے رابطے اور موجودہ تعطل کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ڈان نے رپورٹ کیا کہ بات چیت قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں ہونے کی توقع ہے، تاہم اپوزیشن حلقوں نے مذاکرات کے مقام اور شرائط پر تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان غیر رسمی رابطے جاری ہیں۔ ان کے مطابق 4 اکتوبر کے مارچ سے متعلق فیصلے کا اختیار پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے پاس ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا ہے کہ مذاکرات کسی پیشگی شرط کے بغیر ہونے چاہییں اور مارچ کے بارے میں پارٹی اپنا فیصلہ خود کرے گی۔
صدر زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والی سیاسی سرگرمیوں میں خیبر پختونخوا کی صورتحال بھی زیر بحث رہی۔ حکومتی اور اتحادی رہنماؤں نے صوبے میں امن و امان اور وفاقی و صوبائی تعلقات پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ بعض حکومتی حلقوں کی جانب سے آئینی اور انتظامی آپشنز کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ان آپشنز کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
موجودہ مذاکراتی کوشش کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن دستیاب رپورٹس کے مطابق کسی سمجھوتے، مارچ کی منسوخی یا مؤخر ہونے پر ابھی اتفاق نہیں ہوا۔ اس لیے مذاکرات کے نتائج اور پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے لائحہ عمل کے بارے میں حتمی صورت حال بات چیت کے بعد ہی واضح ہوگی۔
یہ پیش رفت سیاسی طور پر اہم ہے کیونکہ حکومت، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی تینوں کی آئندہ حکمت عملی دارالحکومت میں احتجاج، پارلیمانی رابطوں اور مرکز و خیبر پختونخوا کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ حقیقت یہی ہے کہ مشترکہ وفد تشکیل دیا گیا ہے اور ملاقات طے کی گئی ہے؛ مذاکرات کے ممکنہ نتائج کے بارے میں کسی فریق کا دعویٰ ابھی حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
