بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں ایک کوئلہ کان کے اندر گیس دھماکے کے بعد پھنسے ہوئے کان کنوں کے لیے ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کی 13 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان آرمی نے امدادی کارروائی میں حصہ لیا اور کان کے اندر پھنسے پانچ کان کنوں کو زندہ نکال لیا۔
سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کے نتیجے میں چار کان کن جان کی بازی ہار گئے، جبکہ پانچ دیگر افراد زخمی ہوئے۔ زخمی کان کنوں کو مزید طبی علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں حادثے کی بنیادی وجہ گیس دھماکہ بتائی گئی ہے، تاہم دھماکے کی تکنیکی نوعیت، کان میں گیس جمع ہونے کی مقدار، متاثرہ حصے کی گہرائی یا حفاظتی انتظامات سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ہرنائی بلوچستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں کوئلہ کان کنی بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور ماضی میں بھی زیرزمین گیس سے متعلق حادثات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ سابقہ واقعات میں خاص طور پر میتھین یا زہریلی گیس کے جمع ہونے کو کان کنوں کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم موجودہ حادثے کے بارے میں کسی سابق واقعے کے اعداد و شمار کو اس واقعے سے منسلک نہیں کیا جا سکتا، اس لیے موجودہ رپورٹ میں صرف 13 ستمبر کو جاری ہونے والی مصدقہ معلومات شامل کی گئی ہیں۔
ریسکیو آپریشن کا مکمل ہونا متاثرہ خاندانوں اور مقامی انتظامیہ کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے، لیکن چار اموات نے ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی نگرانی کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ دستیاب سرکاری اطلاع میں یہ نہیں بتایا گیا کہ واقعے کے بعد کسی باضابطہ تحقیق، کان کو سیل کرنے، یا ذمہ داری کے تعین کا حکم دیا گیا ہے۔ ایسی کسی کارروائی کی تصدیق ہونے تک اسے رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا جا رہا۔
حکام کی جانب سے زخمیوں کی انفرادی حالت یا جاں بحق افراد کی شناخت بھی فوری طور پر فراہم نہیں کی گئی۔ اس لیے خبر میں نام، آبائی علاقوں یا طبی کیفیت سے متعلق کوئی غیر مصدقہ تفصیل شامل نہیں کی گئی ہے۔ مزید سرکاری معلومات سامنے آنے کی صورت میں حادثے کی وجوہات اور حفاظتی اقدامات کے بارے میں تصویر واضح ہو سکے گی۔




